ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ اللہ تعالی موٹے عالم سے نفرت رکھتے ہیں یہاں پر مراد موٹا ہونا بے فکری سے ہے اس لیے کہ فکر آخرت وہ چیز ہے کہ بدن کو گھلا دیتی ہے اور روح کو تازہ کرتی ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
صحت ایں حس زمعموری تن صحت آں حس زتخریب بدن
صحت ایں حس بجوئیداز طبیب صحت آں حس بجوائیداز حبیب
چند خوانی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
( اس ظاہری بدن کی فربہی تو بدن کو پالنے سے ہوتی ہے اور باطن کی ترقی ظاہری حالت کو بگاڑنے سے ہوتی ہے اس بدن کی صحت تو طبیب کے پاس ڈھونڈو اور باطن کی محبوب کے پاس تلاش کرو ۔ یونانیوں کی حکمت کب تک پڑھتے رہو گے ، ایمانیوں کی حکمت کو بھی پڑھ لو )
ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ رات کو سوتے نہ تھے بیوی نے کہا کہ سو جائیے تکلیف ہو گی ، فرمایا کہ جب سے یہ آیت تلاوت کی ہے کہ ” قوا انفسکم و اھلیکم نارا و قودھا الناس و الحجارۃ ” ( تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پھتر ہیں ) نیند نہیں آتی اور یہی فکر ہے جس سے حظوظ نفس مضمحل ہو جاتے ہیں ۔ حظوظ کے مغلوب ہو جانے پر ایک حکایت فرمائی کہ کرامات اولیاء میں ہے کہ ایک بزرگ جو قریشی کہلاتے تھے جذامی تھے ان کی بیوی بھی نہ تھی ان کے ایک مرید کی لڑکی نے سنا کہ شیخ کو نکاح کی ضرورت ہے اس لڑکی نے دین پر اپنی دنیاوی حیاء کو نثار کر کے باپ سے کہا کہ معلوم ہوا کہ آپ کے شیخ کو ضرورت نکاح کی ہے آپ جا کر کہیں کہ میری بیٹی حاضر ہے اور وہ نکاح آپ سے کرنے پر راضی ہے ۔ مرید نے جا کر شیخ کی خدمت میں عرض کیا شیخ بھی تیار ہو گئے ، غرض کہ نکاح ہو گیا ، اب شب کو شیخ اپنی بیوی کے پاس پہنچے تو اس حالت میں کہ نہایت تندرست جوان نہایت حسین بڑی بڑی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لانبی صراحی دار گردن اس لڑکی نے منہ چھپا لیا اور سوال کیا کہ تم کون ہو ؟ فرمایا کہ میں تیرا شوہر ہوں ، تیری دینداری کی وجہ سے میں نے خدا سے دعا کی مجھ کو اللہ نے ایسی قوت تصرف کی عطاء فرما دی کہ صورت بدل سکوں ، اب میں تمہارے پاس اسی شان سے آیا کروں گا وہ لڑکی جواب دیتی ہے کہ اس میں تو میرا حظ نفس شامل ہو گیا ، میں نے تو محظ اللہ کے واسطے آپ کی خدمت کو قبول کیا تھا اب یا تو اس صورت کو چھوڑ دو ورنہ مجھ کو چھوڑ دو ، کیا ٹھکانہ ہے اس للہیت کا ۔ عجیب حکایت ہے حقیقت میں بعض لوگوں کو اللہ تعالی اپنے ہی واسطے پیدا فرماتے ہیں اور ظاہری سبب اس کا فکر آخرت ہے کہ حظوظ کو مغلوب کر دیتا ہے ۔ اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ دنیا میں رہ کر تو ایسے حضرات بھی اکثر سب ہی کام کرتے ہیں ، کھانا ، پینا ، سونا ، آرام کرنا تو یہ حظوظ کہاں فنا ہوئے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ بالکل صحیح ہے مگر اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص نے چاقو خریدا ہے ، قلم بنانے کے واسطے مگر کبھی کبھی ناخن بھی تراش لیتا ہے لیکن رہے گا وہ قلم تراش ہی ۔ اسی طرح وظیفہ ان حضرات کا شغل آخرت ہی ہے اور دوسرے حظوظ وقتی اور عارضی ہیں ۔
