گلستان بوستان جیسی کتابوں کی برکت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت گلستان بوستان بھی عجیب کتابیں ہیں مگر اس زمانہ میں ان کی وہ قدر ہی نہیں رہی لوگوں نے نصاب ہی بدل ڈالے ـ فرمایا کہ یہ سچ بات ہے یہ اتنی بڑی کتابیں ہیں کہ بجائے بچپن میں پڑھنے کے ان کو بڑا ہو کر پڑھے تب کچھ سمجھ میں آ سکتی ہیں مگر اس کا عکس ہو رہا ہے کہ جو زمانہ نا سمجھی کا ہوتا ہے اس وقت پڑھاتے ہیں تمیز بھی نہیں ہوتی کہ مطلب کتاب کا ہے کیا میری رائے یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف بچپن میں بھی پڑھا جاتا ہے اور بڑے ہو کر بھی اسی طرح یہ کتابیں پڑھی جایا کریں ـ یعنی قرآن شریف کی بچپن میں تو محض عبارت پڑھتے ہیں اور یاد کرتے ہیں اور بڑے ہو کر اس کے معانی و مطالب کو پڑھتے ہیں اسی طرح ان کتابوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے کہ بچپن میں برکت کیلئے محض عبارت سرسری ترجمہ سے یاد کریں اور بڑے ہو کر معانی اور مطالب کو سمجھیں ـ ادب ، انقیاد، تواضع ، حیا ، شرم یہ سب انہیں کتابوں کی برکت سے پیدا ہوتی ہے ـ اس نئی تعلیم نے ان چیزوں کا بلکہ علمی استعداد کا بھی ایسا ناس کیا ہے کہ لوگوں کی اس طرف توجہ ہی نہیں رہی ـ یہی وجہ ہے کہ علمی یا اخلاقی کمال ہی پیدا نہیں ہوتا بڑے بڑے ڈگری یافتہ ان بابرکت کتابوں کی تعلیم پائے ہوئے طلباء کے سامنے گرد ہوتے ہیں ـ
