حدیث من صلی صلوتنا و اکل ذبیحتنا سے ایک اشارہ فرمایا ! حدیث میں ( جس کے یہ الفاظ ہیں من صلی صلوتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الخ اکل ذبیحتنا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذبیحہ جو مخصوص ہو اہل اسلام کے ساتھ اس کا کھانا بھی شعائر اسلام میں داخل ہے نیز ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ آئندہ ایک زمانہ میں بعض لوگ نماز نہیں پڑھیں گے صرف گوشت کھانے کے مسلمان ہونگے ان کے اسلام کی یہی علامت ہو گی ورنہ حلی صلوتنا کے بعد اس کی کیا ضرورت تھی ـ غرض ایسوں کو بھی حقیر نہ سمجھے ـ
