ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر لوگ آ کر سیدھی اور سچی بات کہہ دیا کریں تو کوئی بھی جھگڑا نہ ہو ، گنوار بھی تو شہریوں والی باتیں آ کر بگھارتے ہیں اس میں کھنڈت پڑتی ہے ہم تو دیہاتی آدمی ہیں ہم کو تو وہی سیدھا سادھ طرز پسند ہے ، بات وہ ہونی چاہیے جس میں دوسرے کو اذیت نہ ہو تکلیف نہ ہو الٹی پلٹی بات سے دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے خدا ناس کرے اس رسم و رواج کا جس نے معاشرت ہی بدل دی ۔ ان بیہودہ باتوں میں نہ راحت ہے نہ اطمینان نہ سکون سوائے اذیت اور کلفت کے کچھ بھی نہیں ۔
21 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ
