ملفوظ 219 : ہر عمل پر آمادہ ہو جانا شرط اول ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ یہ طریق بہت ہی نازک ہے اس میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی شان اپنے کمالات سب کو فنا کر دے اور مصلح کی ہر بات اور ہر تعلیم پر عمل کرنے کیلئے اپنے کو آمادہ کر لے اس راہ کیلئے پہلی شرط یہ ہے کہ ایسا بن جائے فرماتے ہیں ؎ در رہ منزل لیلی کہ خطر ہا ست بجال ٭ شرط اول آنست کہ مجنوں باشمی ( عشق لیلی کے راستہ جہاں جان کیلئے بہت سے خطرات ہیں ـ اول شرط یہ ہے کہ مجنوں بن جاؤ ) ـ حتی کہ جوتیاں کھانے کو تیار ہو جائے اور جو جوتیاں کھانے کو تیار ہو گیا اس نے گویا جوتیاں کھا ہی لیں اور اس کی اصلاح ہو ہی گئی آمادہ ہونا ہی تو مشکل ہے اس لئے کہ آمادگی وہی معتبر ہے جو خلوص دل سے ہو اور خلوص دل سے آمادہ وہی ہوتا ہے جو اپنی شان نہیں رکھتا اور یہی اصل چیز ہے کہ اپنے کو مٹا دے فنا کر دے ورنہ محض جوتیاں کھانے سے کیا ہوتا ہے ـ
