ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ جس سے دین کا تعلق پیدا کیا جائے یا ہاتھ میں ہاتھ دیا جائے پہلے اس کی حالت کو اچھی طرح دیکھلیا جائے اس لیے کہ اس راہ میں رہزن بہت پیدا ہو گئے ہیں اور بہت اچھا معیار پہچان کا یہ ہے کہ اس زمانہ کے صلحاء اس سے جو معاملہ کرتے ہوں اس کو دیکھے علماء و اہل طریق و اہل وجدان کے قلوب کی شہادت اس معیار ہے ، علماء بھی اپنے اجتہاد سے پہچان لیتے ہیں اور یہاں پر علماء خشک مراد نہیں اور صاحب یہ سب کچھ ہے مگر پھر بھی اس میں کاوش گو ضروری ہے مگر کافی نہیں بس جس کو حق تعالی ہدایت فرمائیں وہی راہ پر آ سکتا ہے ۔ فرماتے ہیں :
انک لا تھدی من احببت و لکن اللہ یھدی من یشاء
مگر عادۃ اللہ ہے کہ طالب کے ارادہ پر حق تعالی ہدایت نصیب فرما ہی دیتے ہیں ۔
ارشاد فرماتے ہیں :
من اراد الاخرۃ و سعی لھا سعیھا
بہت سی آیتیں قرآن پاک میں ہیں جن میں ارادہ پر ہدایت کا وعدہ ہے اور ارادہ نہ کرنے پر یا اعراض کی صورت اختیار کرنے پر فرماتے ہیں :
انلزمکموھا و انتم لھا کرھون ۔
اور ایک بڑا مانع وصول الی اللہ اور قرب مع اللہ میں ستانا ہے مخلوق کا اس پر ظلم کرنا اور تکلیف پہنچانا ۔
