( ملفوظ 240 )حضرت گنگوہی اور تھانہ بھون

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی توجہ اور عنایت بڑی دولت ہے اس کی قدر کرنا چاہیے میں تو اپنے متعلق عرض کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہے سب اپنے بزرگوں کی نظر اور توجہ کی برکت ہے ۔ یہاں پر جو مدرسہ ہے کوئی مستقل اس کی آمدنی نہیں ، شان و شوکت نہیں مگر حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ یہاں کی نسبت فرمایا تھا کہ بینائی نہیں رہی ورنہ ایک مرتبہ تھانہ بھون جا کر دیکھتا بزرگوں کی نظر جو اس پر ہے اصل چیز اس کو سمجھتا ہوں اسی سلسلہ میں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ضروری چیز تو لکھنا پڑھنا ہی ہے مگر اس کو تو کثرت سے لوگ کر رہے ہیں باقی جس کام کو کوئی کر نہ رہا ہو وہ من وجہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے وہ میں نے لے لیا اور اس کو نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس سے اجنبیت ہو گئی ہے اسی وجہ سے لوگ مجھ سے خفا ہیں کہتے ہیں کہ فلاں جگہ گئے فلاں بزرگ کے پاس گئے کہیں بھی کوئی کچھ نہیں کہتا سنتا سب سے الگ اور سب سے جدا تعلیم یہیں پر ہوتی ہے ۔ حضرت حدیثوں میں بھی تو یہ سب تعلیم موجود ہے بولنے کی چالنے کی نشست کی برخاست کی اس کو کیا کہو گے ۔