اوپر ہی کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی کو اجازت دی تھی یوں بھی فرما دیا تھا کہ اگر کوئی بیعت ہونا چاہے تو انکار مت کرنا مولانا نے عرض کیا کہ میں بیعت کے قابل نہیں حضرت نے فرمایا کہ تم کیا جانو ہم جو کہتے ہیں وہ کرنا جب مولانا گنگوہ پہنچے گنگوہ میں ایک بی بی تھی انہوں نے حضرت گنگوہی سے بیعت کی درخواست کی حضرت نے بیعت فرمانے سے انکار کر دیا اتفاق سے حضرت صاحب بھی گنگوہ تشریف لے گئے ان بی بی نے حضرت سے بیعت نہ کرنے کی شکایت کی ، حضرت نے مولانا سے فرمایا کہ ان کو بیعت کیوں نہیں کر لیتے مولانا نے عرض کیا کہ اب تو حضرت خود تشریف رکھتے ہیں حضرت ہی بیعت فرما لیں فرمایا کہ یہ کیا ضرور ہے ایک شخص کو تم سے عقیدت ہے مجھ سے نہیں تم ہی کرو غرض یہ کہ حضرت نے ان بی بی کو اپنے سامنے مولانا سے بیعت کرایا یہاں ایک مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ مدار اس طریق میں مناسبت پر ہے سو اگر پیر سے مناسبت ہو اور پیر کے پیر سے مناسبت نہ ہو تو پیر ہی کی طرف توجہ کرے اس کے پیر کی طرف نہ کرے گو ادب اور تعظیم اس کی بھی ضروری ہے حضرت گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجلس میں حضرت جنید اور حضرت حاجی صاحب دونوں ہوں تو ہم جنید کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں وہ حضرت حاجی صاحب کے پیر ہوں گے ہمارا تعلق تو حضرت حاجی صاحب سے ہے افسوس پھر بھی ان حضرات کو وہابی اور خشک کہتے ہیں بڑا ظلم کرتے ہیں ۔
