ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب سے فیض اسی وجہ سے زیادہ ہوا کہ حضرت طالبین کے ساتھ توجہ اور سہولت اور تسلی بہت فرماتے تھے ظاہر میں کیسی ہی منکر بات ہوتی مگر اس کو بھی بشرط گنجائش اچھی ہی حالت پر منطبق فرما دیتے اور یہ فرماتے کہ فلانی حالت میں ایسی بات ہو جاتی ہے کہ کیا ٹھکانا ہے اس شفقت کا ۔
