ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں پر رہ کر تو اگر کسی کتاب کا ترجمہ وغیرہ کرنا چاہتا ہوں تو سب کام بسہولت ہو جاتے ہیں اور دوسری جگہ جا کر ایسی گڑبڑ ہوتی ہے کہ کچھ کام نہیں ہوتا ، فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں پر ہر شخص بے فکر ہے جس طرح جس کا جی چاہے اوقات منضبط کر سکتا ہے اور دوسری جگہ اپنے متعلقین پر خوب حکومت چلاتے ہیں اس لیے اکثر اوقات پریشان رہتے ہیں یہاں پر بحمد اللہ سب کی راحت کا خیال رکھا جاتا ہے حتی کہ کسی کو میری نسبت یہ شبہ تک بھی تو نہیں ہوتا کہ نہ معلوم کس وقت بلا بھیجے مجھ کو اگر مولوی شیر علی سے کچھ کہنا ہوتا ہے تو خود جا کر کہتا ہوں ان کو نہیں بلاتا ۔ اسی طرح آ کر کبھی حکیم صاحب سے اپنی کسی حالت کے بیان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو خود ان کے پاس جاتا ہوں اور جانے سے پہلے حکیم صاحب کو اطلاع کر دیتا ہوں کہ بشرط آپ کی فرصت کے میں فلاں وقت آؤں گا ۔ ایک مرتبہ میں نے اسی طرح کہلا کر بھیجا تو حکیم صاحب نے کہا کہ میں خود آؤں گا ، میں نے منع کرا کر بھیج دیا کہ ان کا بلانا اصول کے خلاف ہے محتاج کو محتاج الیہ کے پاس جانا چاہیے ، بدنام کرنے والے ان امور کو نہیں دیکھتے کہ میں اصول صحیح کو اپنے اوپر بھی جاری کرتا ہوں اور جن چیزوں میں بدنام کرتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ آنے والے خود مجھے چھیڑتے ہیں پھر میں ان کے چھیڑنے کے حقوق ادا کرتا ہوں ۔
