( ملفوظ 89 )حضرت کا کمال استغناء

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عموما مشائخ دربار میں اسپر نظر رہتی ہے کہ کون خدمت زیادہ کرتا ہے اور کون کم اس وجہ سے لوگ اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں الحمدللہ مجھ کو اس کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا بلکہ بعض خدمت سے اور تکلیف ہوتی ہے کیونکہ خدمت کا سلیقہ ہوتا اور بعض کو اگر ہوتا ہے تو نیت اچھی نہیں ہوتی کچھ اغراض پیش نظر ہوتے ہیں خدمت کرنے کے بعد اس غرض کو پیش کرتے ہیں برا معلوم ہوتا ہے یہ تو اچھی خاصی رشوت ہوئی کہ خدمت سے مخدوم نرم ہوجائے گا پھر ہم جو کہیں گے وہ کرے گا گویا تابع اور غلام بنانا چاہتے ہیں اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ ان اہل دنیا کی نظروں میں دین اور اہل دین کی عظمت نہیں آخر ذلیل سمجھنے کا سبب کیا وجہ کیا ہمارا ایسا کون سا کام ہے جو بدون ان کے اٹکا پڑا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ اپنی حاجت آ کر پیش کرتے ہیں ہم نے خود تو کبھی کوئی حاجت ان کے پیش نہیں کی اس لئے جی چاہتا ہے کہ ان کو حقیقت معلوم کرادینا چاہیئے کہ جیسے تم ملانوں کو کچھ نہیں سمجھتے ملا نے تم کو کچھ نہیں سمجھتے ـ