( ملفوظ 429 ) حضرت کی سختی کی حقیقت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر میرا خطاب میری اصلاح میری تدبیر میرا انتظام طالبین کے نزدیک ناکافی ہے تو کہیں اور جائیں ، میں بلانے کب جاتا ہوں مگر یہ یاد رہے کہ میرے اندر سختی سیاست سب کچھ سہی لیکن طالب طریق کو یا طالب علم کو بحمد اللہ کبھی نظر تحقیر سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کو اپنے سے افضل سمجھتا ہوں ۔ میں ایک طالب علم کو کان پور میں نصیحت کر رہا تھا ایک شہر کے شخص میرے پاس بیٹھے تھے ، انہوں نے بھی میری تائید میں طالب علم کو کچھ کہا ، میں نے ان سے بگڑ کر کہا کہ آپ کو کہنے کا کیا حق ہے آپ ان کو غریب اور مسکین سمجھ کر ذلیل سمجھتے ہیں اور ڈانٹتے ہیں مجھے ان کے کہنے کی برداشت نہیں ہوئی اور نہ گوارا ہوا مجھ کو طالبین سے محبت ہے مگر ماں کی سی نہیں بلکہ باپ کی سی ہے مگر باپ کی محبت معلوم نہیں ہوتی ماں کی محبت ظاہر ہو جاتی ہے اس لیے کہ وہ پیار کرتی ہے ، چومتی ، چاٹتی ہے اور باپ ہے کہ ادھر سے چپت ادھر سے دھول رسید کی ، باپ بلائیں دے رہا ہے اور ماں بلائیں لے رہی ہے یہاں پر جو لوگ آتے ہیں مجھے کبھی گوارا نہیں ہوا کہ دوسرے انہیں کچھ کہیں میں چاہے کچھ معاملہ کروں یہ جہاد اصلاح تو فرض کفایہ ہے میں ہی سب کی طرف سے کافی ہوں جس اصلاح میں سب شور و شغب کرنے لگیں وہ جہاد نہیں ہوتا فساد ہوتا ہے ان مجموعی باتوں کو لوگ دیکھتے نہیں ۔ یونہی مشہور کر دیتے ہیں کہ سخت ہے حلانکہ یہ سختی نہیں قوت ہے ۔ دیکھئے ریشم کا ڈورہ ہے اس کو جس طرف کو چاہو موڑ لو ، مسوس لو گرہ لگا لو ، نرم تو اتنا ہے ہاں مضبوط ہے حتی کہ اگر ہاتھی بھی زور لگائے تو نہیں توڑ سکتا تو سختی اور چیز ہے اور مضبوطی اور چیز ہے ۔ اب لوگ چاہتے ہیں کہ کچا ڈورا ہو ہاتھ لگاتے ہی بکھر جائے تو میں ایسا بھی نہیں ۔ ” جعل لکم الارض ”
میں مفسرین نے فرمایا ہے کہ زمین نہ اس قدر نرم ہے کہ چلنے والا پانی کی طرح اس میں اترتا چلا جائے اور نہ اس قدر سخت کہ کھودنے سے بھی کچھ اثر نہ ہو ۔ اصل یہ ہے کہ لوگ نہ نرمی کو سمجھتے ہیں اور نہ سختی کو جو چاہا ہانک دیا مگر میں نے اس کا بھی اہتمام نہیں کیا کہ کوئی مجھ کو برا نہ کہے ، کوئی برا کہا کرے میرا بگڑتا کیا ہے ۔