ایک صاحب نے ایک بڑے غیر مسلم حاکم کا مقولہ نقل کیا کہ حضرت چھوٹے قصبہ میں رہتے ہیں دہلی جیسی جگہ میں کیوں قیام نہیں فرماتے تاکہ زیادہ لوگوں کو نفع ہو فرمایا کہ چھوٹی جگہ میں رہ کر کام زیادہ کر سکتا ہوں کیونکہ زیادہ وقت فراغ کا زیادہ ملتا ہے اور بڑی جگہ میں رہ کر چھوٹا کام بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ وقت وارد و صادر کی دلجوئی ہی میں گزرتا ہے اور اس وقت تک جو کچھ کام ہوا یہ سب اسی جگہ کی برکت ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ حضرت حاجی صاحب کی جگہ ہے اور حضرت ہی کے فرمانے کی وجہ یہ سے کانپور سے یہاں آ کر قیام کیا اور اس کے علاوہ سب سے بڑی بات جس سے برکت بڑھتی ہے یہ ہے کام میں خلوص ہو یعنی جو کام ہم کریں اس میں یہ نیت ہو کہ اللہ راضی ہو پھر برکت ہی برکت ہے اور کام میں جو بے برکتی ہے وہ نیت کی خرابی اور عدم خلوص کے سبب ہوتی ہے ـ
