حضرت مولانا محمد قاسم صاحب میرٹھ میں مثنوی شریف پڑھاتے تھے ایک درویش بھی شریک ہوتے تھے کئی روز مثنوی شریف سن کر کہتے ہیں کہ مولانا اگر درویش بھی ہوتے تو کیا اچھا ہوتا انہوں نے ایک روز محبت سے کہا کہ میں آپ کو توجہ دینا چاہتا ہوں ذرا بیٹھ جایئے ان کی نیت یہ تھی کہ کسی کیفیت محمودہ کا مولانا پر القا کریں حضرت مولانا براہ تواضح بیٹھ گئے وہ متوجہ ہوئے تھوڑی ہی دیر میں گبھرا کر کہنے لگے کہ حضرت بڑی گستاخی ہوئی معاف فرمایئے مجھ کو کیا خبر تھی آپ کتنی دور پہنچے ہیں اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک صاحب سے جنہوں نے مولانا موصوف اور حضرت حاجی صاحب کا درس مثنوی سنا تھا کسی نے پوچھا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حاجی صاحب کے مثنوی پڑھانے میں کیا فرق ہے کہا کہ حضرت حاجی صاحب تو مثنوی پڑھاتے تھے اور مولانا نہ معلوم کیا پڑھاتے تھے عجیب جواب ہے دونوں پہلو نکل سکتے ہیں ایک درویش نے کہا کہ حضرت حاجی صاحب کا مثنوی پڑھانا ایسا ہے کہ مکان کے اندر لے جا کر کھڑا کر دیا کہ خود دیکھ لو ۔
