ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کا مذاق ہے کہ جماعت کے لوگ جمع رہیں باہم ارتباط رہے مگر چونکہ اس اجتماع کے اغراض فاسد ہوتے ہیں اس لیے مجھ کو اس سے نفرت ہے بلکہ اگر اغراض فاسد بھی نہ ہوں مگر کوئی مصلحت بھی نہ ہو تب بھی انقباض ہوتا ہے جیسے گھر میں آج اوجھڑی پکی تھی سب نے کھائی مگر میں نے نہیں کھائی ۔ جب یہ خیال ہوتا تھا کہ یہ وہی ہے جس میں گوبر تھا جی ہٹ جاتا تھا ، گو جائز ہے بس اسی طرح بد فہموں کے اجتماع سے گو مباح ہی ہو جی گھبراتا ہے ایک دو دوست سمجھ دار فہیم ہوں دل بہلانے کو وہی کافی ہیں ایسے ہی بہت سے افعال مباح ہوتے ہیں مگر مجھ کو ان سے طبعا انقباض ہوتا ہے اور اس کے متعلق ایک حکایت بھی بیان فرمائی کہ ایک مولوی صاحب نے جن کو معتقدین کے ہجوم سے حظ ہوتا تھا میرے اس بیان پر ایک آیت پڑھی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہے :
و اصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم الخ
میں نے کہا کہ اول تو مع الذین یدعون ربھم سے اس مجمع میں خاص قیود معلوم ہوتے ہیں ۔ دوسرے خود اصبر سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماع آپ کو طبعا گراں تھا کیونکہ صبر کی حقیقت ہے : حبس النفس علی ما تکرہ تو واصبر خود دلالت کر رہا ہے گرانی پر ۔ اجی صاحب آزاد ہی رہنا اچھا ہے دوسرے ہم لوگوں کے نفس کا کیا اعتبار اس کے تو پر قینچ ہی ہوتے رہیں تو سلامتی ہے ایسے سامان کو جمع ہی نہ ہونے دیں جس سے اسے موقع ملے ، ہاتھ پیر نکالنے کا ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
نفس اژدھا ست اوکے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
اگر ایسے ہی اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کی قوت کے سامان جمع ہوئے ہیں جن میں سے معتقدین کا ہجوم بھی ایک بڑا سبب ہے تو چند روز میں انسان فرعون بن جائے ۔ اس کو فرماتے ہیں :
نفس از بس مدحہا فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لا تسد
اس لیے طبیعت آزادی کو پسند کرتی ہے ہاں جن کو دکانداری کو ترقی دینا ہے وہاں ضرورت ہے اس سامان کی اور ڈھونگ بنانے کی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے بزرگوں کو دیکھا ہے کہ جو جامع تھے ظاہر اور باطن کے وہ ان چیزوں کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ صاحبو ! ہماری عزت سامان سے نہیں اگر عزت ہے تو بے سروسامانی ہی میں ہے اس بے سروسامانی کے باب میں خوب کہا ہے :
زیر بارند درختاں کہ ثمرہا دارند اے خوشا سرو کہ از بند غم آزاد آمد
دل فریبان نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خداواد آمد
اور اسی کو فرماتے ہیں :
نباشد اہل باطن درپے آرائش ظاہر بنقاش احتیاجے نیست دیوار گلستان را
بس وہ دولت حاصل کرنا چاہیے جس کے ہوتے ہوئے ان اسباب کی حاجت ہی نہ ہو ۔ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی کو دیکھ لیجئے کہ اصلاحی عالم نہ تھے جو رفعت کا ایک بڑا ذریعہ ہے مگر ہزاروں لکھوں پڑھوں کو ان کے سامنے جھکا دیا گیا ۔ اسی چیز کو عارف شیرازی فرماتے ہیں :
شاہد آں نیست کہ موئے دمیانے دارد بندہ طلعت آں باش کہ آنے دارد
اس دولت کا خاصہ ایسا استغناء ہے جس کی نسبت کہا گیا ہے :
از بہر خورش ہر آں کہ نانے دارد وزبہر نشست آستانے دارد
نے خادم کس بود نہ مخدوم کسے گو شاد بزی کہ خوش جہانے دا
