ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان ناز کس بات پر کرے اس کی ہستی اور وجود ہی کیا ہے ایک عالم کی حکایت لکھی ہے کہ میں نے ایک چیز ایسی یاد کی کہ کوئی یاد نہیں کر سکتا اور ایک ایسی چیز بھولا کہ کوئی نہیں بھول سکتا یاد تو یہ کہ قرآن شریف تین دن میں یاد کر لیا ـ اور بھولا یہ کہ داڑھی چار انگلی سے زائد ہو گئی مٹھی میں تھی پکڑ کر جاٹنی چاہی خیال نہ رہا اوپر کی جانب سے کاٹ گیا بالکل صاف ہو گئی حق سبحانہ تعالی انسان کا عجز دکھا دیتے ہیں اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ـ
گر خدا خواہد نگفتند از بطر پس خدا بنمود شان عجز بشر
بندوں کی غلطی ظاہر کر دیتے ہیں تاکہ ان میں دعوی نہ پیدا ہو جائے یہ بھی بڑی رحمت ہے حق تعالٰی بندوں پر ماں باپ سے بھی زیادہ شفیق ہیں چناچہ میں نے ایک روایت دیکھی ہے کہ جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر ٹوٹ پڑوں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں مطلب یہ کہ اسکو فنا کر دیں حق تعالی فرماتے ہیں اگر تم اس کو بناتے اور پھر ایسی درخواست کرتے تب جانتے اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے محبت ہوتی ہے کہیں اختیار کہیں اضطرارا وہاں اضطرار تو ہے نہیں صرف اختیار ہے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا سے جب قوم غرق ہو گئی حکم ہوا مٹی کے برتن بناؤ کئی سال تک برتن بنوائے گئے پھر حکم دیا کہ توڑ دو ـ دیکھنے بھی نہ پائے تھے کہ توڑدیئے ارشاد ہوا کہ کچھ رنج ہوا عرض کیا کہ بہت رنج ہوا ارشاد ہوا دیکھو اپنی بنائی ہوئی چیز سے ایسی محبت ہوتی ہے مگر ہم نے تمھارے کہنے سے اپنی مصنوعات کو ہلاک کر دیا ـ
