ملفوظ 343: اس راہ میں مٹ کر ہی کچھ ملتا ہے

اس راہ میں مٹ کر ہی کچھ ملتا ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے فلاں مولوی صاحب کو لکھا تھا کہ اس طریق میں افعال مقصود ہیں انفعالات مقصود نہیں میں نے ان دو ہی جملوں میں تمام تصوف کی حقیقت اور روح بتلا دی تھی اور بیان کر دی تھی مگر ان مولوی صاحب نے کوئی قدر نہ کی ـ تعجب ہے کہ جب علم ہو کر بھی نہ سمجھے ـ بات وہی ہے جو میں کہا کرتا ہوں کہ ہر شخص چاہتا یہ ہے کہ کام کچھ نہ کرنا پڑے بزرگ اپنے سینوں میں سے دیدیں پہلے یہ تو معلوم کر لو کہ خود ان کو یہ چیز کیسے ملی ہے تم کو گھر بیٹھے بٹھلائے کہ کچھ کرنا دھرنا نہ پڑے کیسے مل جائے گی ـ کسی کی جوتیاں سیدھی کرو ناک رگڑو اس پر بھی اگر مل جائے تو بسا غنیمت ہے اس راہ میں تو مٹ کر فنا ہو کر کچھ ملتا ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار، مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پامال شو