اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا گو معلوم ہو جانا کسی علم کا اچھا ہے مگر وہ کیفیات کہاں جو اس راستہ کو طے کر کے منزل پر پہنچنے سے مشاہد ہوتی ہے ـ مثلا ایک شخص تو سفر کر کے بمبئی دیکھ کر آیا اور ایک آئے ہوئے سے وہاں کے حالات دریافت کرتا ہے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ـ اس کا صحیح طریق یہ ہے کہ وہاں پر پہنچ جانے کی کوشش کرے جس کیلئے راستہ بتلانے والے کی ضرورت ہوگی مگر جو اس راستے کے بتلانے والے ہیں ان کا یہ ادب ضروری ہے کہ اس سے ان کو کلفت نہ پہنچے یہ اس طریق میں بڑی ہی مضر چیز ہے ـ کیونکہ مدعیان محبت سے ذرا سی بھی کوتاہی ہو وہ گوارا نہیں ہوتی ـ اور یہ ایک فطری چیز ہے اس کا اثر ہوتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ عقیدت اس قدر مطلوب نہیں ، عظمت اس قدر مطلوب نہیں جس قدر محبت کی ضرورت ہے اور یہ ہی زیادہ مطلوب ہے ـ گو عقیدت جو حدود کے درجہ میں ہو وہ بھی ایک درجہ میں مطلوب ہے مگر بڑی چیز جو ہے وہ محبت ہے ـ
ملفوظ 154: اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا
خلاصہ یہ ہے کہ اگر محبت ہو گی تو سب چیزوں کی فکر ہو گی کہ کوئی بات مجھ سے ایسی نہ ہو جائے جو سبب بن جائے تکلیف کا اور یہ بہت ہی سہل چیز ہے جس کو اس درجہ سخت سمجھ رکھا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا قصد رکھے پھر انشاء اللہ ایسا کوئی کام نہ ہوگا جس سے تکلیف پہنچے اور اگر باوجود اس قصد اور اہتمام کے پھر بھی ہو جائے تو اس کی اتنی گرانی نہ ہو گی اسلئے کہ جہاں وہ اس کو محسوس کرتا ہے یہ بھی محسوس کریگا کہ قصد نہ تھا اور اس کے خلاف کا اہتمام بھی تھا مگر انسان ہے ہو گیا یہ سمجھ کر وہ معذور سمجھے گا اور اس سے قلب پر گرانی نہ ہو گی ـ پھر فرمایا کہ بے فکری پر جو شیوخ عتاب کرتے ہیں یہ طریقہ چھوٹوں کے ساتھ بمصلحت احلاح کے اختیار کیا جاتا ہے ورنہ خدانخواستہ قلب میں تحقیر تھوڑا ہی ہوتی ہے کس کو علم ہے کہ کون چھوٹا ہے اور کون بڑا ـ بلکہ جس طرح چھوٹوں کو ضرورت ہے بڑوں کی ـ اسی طرح بڑوں کو ضرورت ہے چھوٹوں کی ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بڑوں کو چھوٹوں کی کیا ضرورت ! فرمایا ضرورت یہ ہے کہ کبھی چھوٹوں کو وہ بات نصیب ہو جاتی ہے کہ بڑوں کو کبھی وہ بات خواب میں نہ آئی ہو گی ـ اگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ بڑے بڑے ہی نہ رہتے کیونکہ ان کے نفس کی نہ حالت ہو جاتی جس کو مولانا فرماتے ہیں ؎ نفس از بس مدحہا فرعون شد ٭ کن ذلیل النفس ہونا لا تسد ( نفس زیادہ تعریفوں کی وجہ سے فرعون ہو گیا ہے ، کبھی کبھی اس کو ذلیل بھی کر لیا کرو) اب یہ بڑے بھی ہر وقت اپنے اعمال کے محاسبہ میں رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہماری ضرورت چھوٹوں کو ہے ـ اسی طرح ہمیں ضرورت ان کی ہے بھلا جس کا یہ خیال ہے وہ چھوٹوں کی تحقیر یا تذلیل کسی وقت میں بھی کر سکتا ہے ـ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں آنے والوں کے قدموں کی زیارت کو ذریعہ نجات سمجھتا ہوں ـ
