( ملفوظ 519) جھوٹ بولنا قبیح شرعا ہے

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ہے اگر جھوٹ نہ بولا جائے تو شرمندگی ہوتی ہے جواب لکھا گیا گوہ کھانے والوں میں بیٹھ کر کوئی گوہ کھانے لگے اور کہے کہ اگر نہ کھاؤں تو شرمندگی ہوتی ہے ایسے شخص کا کیا علاج ۔ پھر فرمایا کہ گوہ کھانا قبیح حسا ہے اور جھوٹ بولنا قبیح شرعا ہے دونوں میں فرق کیا ہے اس فرق پر یاد آیا ایک شخص تھا عبدالرحیم یہ دہری تھا اس نے مولانا شہید صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے گفتگو میں کہا کہ داڑھی رکھنا اس لئے ضروری نہیں کہ پیدائش کے وقت یہ نہ تھی تو یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ مولانا شہید نے جواب میں فرمایا کہ اس وقت تو دانت بھی نہ تھے ان کو بھی نکلوا دو اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ، مولوی عبدالحی صاحب حضرت شہید صاحب کے رفیق تھے انہوں نے کہا کہ واہ مولانا کیا دندان شکن جواب دیا اس دندان شکن میں عجیب لطیفہ ہے ۔