(ملفوظ 32 )جھوٹ بولنے کا علاج

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ مجھ کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے میں نے لکھا تھا کہ اگر سوچ کر بولو تو کیا اس سے بچنا اختیار میں نہیں کیا تب بھی جھوٹ ہی بولو گے ، آج پھر بھی خط آیا ہے لکھا ہے کہ واقعی سوچ کر بولنا جھوٹ کا علاج ہے ۔ اب انشاء اللہ تعالی سوچ کر بولا کروں گا ، فرمایا کہ حضرت اختیاری اور غیر اختیاری کا مسئلہ نصف سلوک سے زیادہ ہے اور توسع کر کے کہتا ہوں کہ کل سلوک ہے دعوے سے تو کہتا نہیں مگر اکثر ہے یہی کہ جس کے ساتھ جو معاملہ کیا جاتا ہے اکثر صحیح نکلتا ہے اور اس میں دعوے کی چیز ہی کونسی ہے اللہ تعالی جس سے کام لیتے ہیں اس کی مدد فرماتے ہیں ۔