( ملفوظ 44 ) جھوٹ بولنے والے طالب علم کی معافی کا واقعہ

جس طالب علم کو جھوٹ بولنے کی وجہ سے حضرت والا نے نکل جانے کا حکم دیا تھا جس کا قریب واقعہ گذرا ہے اس کی معافی کی درخواست پر من جملہ اور شرائط کے یہ شرط بھی فرمائی کہ پہننے کے لیے کپڑے ویسے ہوں گے جیسے میں تجویز کروں گا یعنی بدنما آج اس طالب علم کی معافی کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ سزا بہت سخت ہے جو اس کے لیے تجویز کی گئی اس کو اچھا کپڑا پہننے کا بہت شوق ہے اب ایک خاص قسم کی وردی اس کے لیے تجویز کروں گا جو نہایت بھدی اور بدنما ہو گی اور اس میں ایک مرض یہ ہے کہ بے پرواہ ہے جو جی چاہے کر لیا یہ سب چیزیں قابل اصلاح ہیں ۔ ایک مولوی صاحب کے کسی سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت میں تو ایسا ضعیف القلب ہوں کہ ستانے پر بھی بہت جلد متاثر ہو جاتا ہوں اور یہ تکلیف تو محض خیالی ہے لیکن میرے مواخذہ پر دوسروں کو یقینی تکلیف ہوتی ہے اس سے بھی متاثر ہوتا ہوں مگر پھر بھی سزا تجویز کرنے میں طبیعت پر عقل کو غالب رکھتا ہوں ، اگر ایسا نہ کروں تو اصلاح کس طرح ہو پھر خود اس طالب علم سے فرمایا کہ مجھے تو اس کا بھی قلق اور رنج ہے کہ کم بخت تیری اتنے دنوں تک اصلاح اورتربیت کی گئی مگر کچھ بھی اثر نہ ہوا ، سالہا سال سے یہاں کے رہنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جھوٹ بولنے پر میں کتنی سختی کرتا ہوں مگر پھر بھی نالائق باز نہیں آتے ۔