ایک گاؤں کا رہنے والا شخص بہت دیر سے مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ، دفعتا اٹھا اور اہل مجلس کے کاندھوں پر کو پھاندتا ہوا حضرت والا کے قریب آ کر بیٹھا دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ آپ کی زیارت کو آیا ہوں ، فرمایا کہ زیارت تو ہو گئی مگر جس کام کو آئے ہو وہ تو بھی کہہ لو ، عرض کیا کہ اور کچھ نہیں کہنا فرمایا کہ تم کو اختیار ہے اس وقت تو میں سننے کو تیار ہوں ، پھر اگر کہو گے تو نہ سنوں گا اور نہ تمہارا کام کروں گا اور ایک کوتاہی یہ کی کہ یہ بھی نہیں بتلایا کہ کہاں سے آئے ہو ، عرض کیا کہ فلاں گاؤں سے آیا ہوں ، فرمایا کہ یہاں سے کتنی دور ہے عرض کیا کہ قریب پانچ کوس کے ہو گا ، فرمایا کہ اتنی دور کا سفر کیا اور کام کچھ بتلاتے نہیں میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کام ہو اب بھی کہہ لو کبھی پھر پچھتاؤ اور مجھ کو دق اور پریشان کرو اس پر وہ شخص خاموش رہا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ تم جانو کچھ دیر کے بعد اس شخص نے عرض کیا کہ مولوی جی اب میں جاؤں گا ، فرمایا اچھا بھائی جاؤ اللہ حافظ عرض کیا کہ ایک تعویذ دے دو ، فرمایا کہ جب کیا مکھی نے چھینک دیا تھا ان گاؤں والوں کے ساتھ کتنی ہی رعایت کرو مگر گنوار پن سے باز نہیں آتے ۔ حضرات سب دیکھ رہو کہ کس قدر کھود کرید کر کے پوچھتا رہا مگر وہی دہقانی پن ظاہر کر کے رہا ، فرمایا کہ پہلے کیا زہر مل گیا تھا چل کھڑا ہو ، دور ہو کہتا ہے کہ زیارت کو آیا ہوں ، یہ زیارت کو آیا تھا دق کرنے آیا تھا ان گنواروں کی اصلاح بڑی مشکل ہے آخر گنوار پن کی بھی تو کوئی حد ہونی چاہیے اس نے تو کوئی حد ہی نہ رکھی ، خیر یہ تو گاؤں کا ہے گنوار ہے جو شہر کے ہیں ، تعلیم یافتہ ہیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں سب ایک مٹی کے پیدا ہوئے ہیں ، مجھ کو تو شب و روز سابقہ پڑتا رہتا ہے میں ان کی نبض پہچانتا ہوں میں اچھی طرح ان کے رگ و ریشہ سے واقف ہوں جیسا مجھے ستاتے ہیں ویسے ہی خوش ہو کر جاتے ہیں پھر بدنام کرتے ہیں خیر خوب بدنام کریں کیا ہوتا ہے بلانے کون جاتا ہے اسی کو کسی نے خوب کہا ہے :
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
