ملفوظ 302: جہلاء صوفیہ اور آیت روح کی تفسیر

جہلاء صوفیہ اور آیت روح کی تفسیر فرمایا کہ قل الروح من امر ربی میں جہلا صوفیہ نے عجب گڑبڑ کی ہے جب ہی تو ابن تیمیہ وغیرہ صوفیہ پر خفا ہوتے ہیں ـ ایک اصطلاح ہے کہ عالم دو ہیں عالم امر یعنی مجردات اور عالم خلق یعنی مادیات اس اصطلاح پر آیت کی تفسیر کر لی کہ روح عالم امر سے ہے یعنی مجرد ہے تو اس کا تجرد قرآن سے ثابت کیا مگر یہ استدلال محض لغو ہے کیونکہ اصطلاح خود مقرر کی اور پھر قرآن کو اس کا تابع بنایا قل الروح من امر ربی سے تو مقصود یہ ہے کہ تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے اتنا سمجھ لو کہ روح اللہ تعالی کے امر سے پیدا ہوئی بس اس سے آ گے کسی تفسیر کا دعوی محض گھڑت ہے ـ