حضرت والا نے ایک شخص کو کام بتلا کر فرمایا کہ آ کر اطلاع کر دینا کہ فلاں کام کر آیا ہوں پھر فرمایا کہ آج کل اطلاع نہ کرنے کا مرض بھی عام ہے جس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کام کے بعد اطلاع کرنا ضروری بات ہے میری ان باتوں کو لوگ وہم سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ ایک رئیس صاحب یہاں پر آ کر رہے تھے انہوں نے وطن جا کر کہا کہ وہاں کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کو مقدمہ بازی سیکھنا ہو وہاں چلے جاؤ ۔ فرمایا کہ مجھ سے وہاں کے ایک ثقہ عالم نے نقل کیا مجھے خود یاد نہیں کہ وہ کب آئے تھے اور وہ کون صاحب تھے اور انہوں نے جس کو مقدمہ بازی فرمایا حقیقت اس کی یہ ہے کہ یہاں جو واقعہ کو چھپانا چاہتا ہے تلبیس کرتا ہے اس پر کھود کرید ہوتی ہے جس سے اس واقعہ کی حقیقت کھل جاتی ہے ایسا کوئی معاملہ ان کے سامنے یا خود انہیں سے ہوا ہو گا جس کو انہوں نے مقدمہ بازی سے تعبیر کیا ۔ یہ ان کا قول ایسا تھا جیسا ایک صاحب قصبہ سیکری کے رہنے والے حج کر کے آئے تو بعض لوگوں نے ان سے وہاں کے حالات دریافت کیے ، کہنے لگے کہ خلاصہ بیان کر دوں وہ یہ ہے کہ خدا وہاں کسی مسلمان کو نہ لے جائے ، فرمایا کمبخت منحوس حج کر کے بھی کھویا ۔
