ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ حق تعالی کا احسان اور فضل ہے کہ ضرورت کی باتیں ذہن میں ڈال دیتے ہیں ـ ورنہ ہر شخص کو کشف نہیں ہوتا اور مجھ کو تو ہوتا بھی تو سلب کی دعاء کرتا ـ کشف میں بڑی مصیبتیں ہیں ـ ایک تو یہ ایک بات ہونے والی ہے ـ دس روز بعد ، معلوم ہو گئی آج ،اب گھل رہے ہیں ـ ایک یہ کہ اب تو سب مسلمانوں سے حسن ظن ہے اور اس وقت دوسروں کا عیب بھی منکشف ہوتا اجتنبوا کثیرا من الظن ( بہت سے گمانوں سے بچا کرو ) کو صاحب کشف نہیں بجا لا سکتا ـ اور جس کو کشف نہ ہو تو وہ اس کو بجا لا سکتا ہے تو کشف نہ ہونے میں یہ کیا تھوڑی نعمت حاصل ہوتی ہے کہ حکم شرعی پر عامل ہونے کی توفیق ہوگئی ـ اسی طرح الہام بھی کوئی کمال کی چیز نہیں ـ فالھمھا فجورھا وتقواھا کی رو سے ہر شخص ملہم ہے ـ ہاں بڑی چیز یہ ہے کہ اپنے کو فنا کر رہا ہو یہ ہے دولت اس کے سامنے کیا الہام اور کیا کشف اور کیا کرامت اسی کو کہتے ہیں ـ
ہوفنا ذات میں کہ تو نہ رہے گم ہستی کی رنگ و بو نہ رہے
اور اسی کو کہتے ہیں
تو درو گم شو و صال ایں است و بس گم شدن کم کن کمال ایں است و بس
( تو ایں میں فنا ہو جا ـ یہی وصال کا حاصل ہے ـ فنا ہونے کی طرف بھی توجہ نہ کرو یہی کمال فنا ہے )
