ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خودرائی اگر رائی کے برابر بھی ہو اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیے ، یہ بڑی ہی مضر چیز ہے ۔ اگر شیخ عبادت مستحبہ سے بھی منع کرے اس کو چھوڑ دینا چاہیے اس کے نافع ہونے کے بھی شرائط ہیں اس کو مبصر سمجھتا ہے کہ اس کے لیے نافع ہے یا نہیں مثلا مستحب میں مشغول ہونے سے کوئی واجب فوت ہوتا ہو جس کو بعض اوقات شیخ جانتا ہے طالب نہیں جانتا ۔
