( ملفوظ 145 )کبر اور خجلت میں فرق اور ایک مثال سے اس کی تشریح

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک تو ہوتا ہے کبر اور ایک ہوتی ہے خجلت یعنی خلاف عادت ہونے پر جو انقباض ہو اس کو خجلت کہتے ہیں تکبر نہیں ۔ مثلا ایک حالت اس کی عادت سے ارفع ہے جیسے اس شخص کا جلوس نکالیں تو اگر اس سے اس کو نفرت ہے تو اس کو تکبر نہ کہیں گے خجلت کہیں گے اور اگر اس کا عکس ہو کہ بازار میں سر پر گھٹا رکھ کر چلنے میں تو شرماتا ہے اور جلوس نکالنے سے نہیں شرماتا ۔ گو یہ بھی خلاف عادت ہو تو اس کو تکبر کہیں گے اور اگر دونوں میں شرمائے تو تکبر نہیں خجلت ہے ۔ فرمایا کہ آج کل امراض روحانی کو تو لوگ امراض ہی نہیں سمجھتے ، میں نے ایک صاحب سے کہا تھا کہ تم میں کبر کا مرض ہے اپنی خبر لو ، نہیں مانا ، پانچ برس کے بعد اقرار کیا کہ آپ سچ کہتے تھے مجھ میں واقعی کبر کا مرض ہے میں نے کہا کہ بندہ خدا اگر اس وقت مان لیتے تو جب سے تو کیا سے کیا ہو جاتا مگر اتنے زمانہ تک اینٹھ مروڑ ہی میں رہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو شیوخ کی تقلید سے عار آتی ہے ، طریقت کے غیر مقلد ہو جاتے ہیں مگر اس طریق میں تمام تر مدار اعتماد پر ہے مگر بعض کو نہیں ہوتا حلانکہ اعتماد بڑی چیز ہے یہی حاصل ہے تقلید شیوخ کا ۔