( ملفوظ 585)کیر بنیاد کدام مذہب است

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک گستاخ ہندو نے فارسی میں ایک کتاب منظوم لکھی ہے اس میں فتنہ پر اعتراض کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شعار سے ہے تو گویا ان کے مذاہب کی اس پر بنیاد ہے اور بدتہذیبی سے یہ مصرع لکھا ہے ” یقینم شد کہ بر کیر است بنیاد مسلمانی ” ایک صاحب نے نظم ہی میں اس کی کتاب کا جواب لکھا ہے چنانچہ اس تمسخر کا یہ جواب دیا ہے کہ کوئی اپنی بنیاد کو قطع نہیں کیا کرتا بنیاد تو اس پر تمہارے مذہب کی ہوئی کہ اس کو باقی رکھتے ہو نہایت لطیف جواب ہے وہ شعر مجھ کو یاد نہیں رہا مضمون یاد رہ گیا ۔