ملفوظ 253: کرامت استد راج میں فرق

ملفوظ 253: کرامت استد راج میں فرق ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر کسی خارق ( کرامت ) کے بعد قلب میں زیادرت تعلق مع اللہ محسوس ہو تب تو وہ کرامت ہے اور اگر اس میں زیادت محسوس نہ ہو تو نا قابل اعتناء ( توجہ ) ہے اور یہ جو آجکل مخترع کشف و کرامت کی بناء پر پیروں کو مریداں می پر انند کا مصداق بناتے ہیں اور لوگوں کو پھنساتے ہیں بالکل واہیات بات ہے ـ اسی سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کا ایک بدوی نفاع نام معتقد تھا اس نے ایک بار کہلا کر بھیجا کہ لڑائی میں میرے گولی لگ گئی ہے تلکیف ہے دعا کیجئے نکل جائے اس کا بیان ہے کہ دوسرے دن حضرت حاجی صاحبؒ تشریف لائے اور زخم میں انگلی ڈال کر گولی نکال لی ـ حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا کہ مجھے پتہ بھی نہیں نیز بعض اوقات خارق استدراج ( ڈھیل ) ہوتا ہے اور استدراج کے بعد نفس میں تکبر ہوتا ہے بس ایسے اشتباہ کی حالت میں اگر کوئی چیز راحت اور آرام کی ہے تو وہ ذکراللہ میں مشغول رہنا ہے اور گمنامی اور اپنے کو فنا کر دینا اور مٹا دینا اس ہی میں لطف ہے بدوں اس کے چین ملنا مشکل ہے مولانا فرماتے ہیں ؎ ہیچ کنجے بے دو وبے دام نیست ٭ جز بخلوت گاہ حق آرام نیست اور کرامت و استدراج میں ایک ظاہر فرق یہ ہے کہ صاحب کرامت متصف بالایمان والعباد وغیرہ ہو گا ـ اور صاحب استدراج افعال منکرہ میں مبتلا ہو گا ارو پہلا فرق جو مذکور ہوا انکسارو تکبر وغیرہ کا وہ اثر کے اعتبار سے ہے ـ