( ملفوظ 207)کسی کی اصلاح عین خوش اخلاقی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو ہر بات کی چھان بین کرتا ہوں اور کھود کرید کرتا ہوں اس کو لوگ بد اخلاقی سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ میری اس بد اخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے اخلاق درست ہوں اسکے لئے انتظام کرتا ہوں اس کو بد اخلاقی سمجھا جاتا ہے حالانکہ کسی کی درستی کرنا عین شفقت و خوش اخلاقی ہے ـ آجکل تو یہ حالت ہے کہ عوام کو دیکھئے خواص کو دیکھئے انگریزی دانوں کو دیکھئے عربی نوجوانوں کو دیکھئے سب کی ایک حالت ہے الا ماشاءاللہ ان سب کی موزی حرکات کا منشاء بے فکری ہے فکر سے کام نہیں لیتے اگر فکر سے کام لیں تو دوسرے کو تکلیف یا اذیت نہ پہنچے دوسروں کو وہی اذیت سے بچا سکتا ہے اور وہی دوسروں کا ہلکا رکھ سکتا ہے جو اپنے اوپر بوجھ اٹھائے اور خود تکلیف برداشت کرے میں الحمداللہ خود بوجھ اٹھاتا ہوں اور دوسروں کو ہلکا رکھتا ہوں ـ