ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اپنی تمام تصنیفات میں رسالہ حیات المسلمین کو اپنے لیے ذریعہ نجات سمجھتا ہوں کیونکہ اس میں انتظام ہے مسلمانوں کے دین و دنیا کا قیامت تک کے لیے لیکن بعض ثمرات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بدون جماعت کے مرتب نہیں ہو سکتے جیسے نماز میں جماعت کے فضائل ہیں مگر جب تک سب جمع ہو کر نہ پڑھیں وہ فضائل نہیں حاصل ہو سکتے ایسے ہی حیات المسلمین کے اعمال کے ثمرات بدون کثرت سے مسلمانوں کے جمع ہوئے اور عمل کئے حاصل نہیں ہو سکتے ۔ اگر سب مسلمان اس کی تعلیم پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنا لیں تو میں خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ دین و دنیا میں ان کو اعلی درجہ کی کامیابی اور فتح نصیب ہو ۔
