ایک شخص نے خاموشی کے ساتھ ایک رقعہ حضرت والا کے پاس رکھ دیا اور زبان سے کچھ نہیں کہا ، حضرت والا ڈاک کی تکمیل میں مصروف تھے اس طرف خیال بھی نہ ہوا اتفاقا نظر پڑ جانے پر دریافت فرمایا کہ یہ کن صاحب کا پرچہ ہے ۔ تب ان صاحب نے عرض کیا کہ یہ میرا ہے ۔ فرمایا کہ بندہ خدا کچھ تو زبان سے کہہ دیا ہوتا اگر میں نہ دیکھتا تو مجھ کو اس کا علم کس طرح ہوتا پھر مزاحا فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ پہلے رکا دے ( یعنی بلند آواز سے بات کہنا ) اس کے بعد رقعہ دے اب غلطی پر متنبہ کیا جاتا ہے تو بدنام کرتے ہیں اس کا میرے پاس کیا علاج ہے کہ خواہ مخواہ بھیڑیا بنا رکھا ہے میرے تو کپڑے بھی سفید نہیں جن کی وجہ سے رعب ہو سکتا تھا اور سفید اس لیے نہیں کہ جمعہ کے روز نہ بدل سکا اور آج کا دن بھی یوں ہی گذر گیا ، میں خادم تو بننا چاہتا ہوں مگر غلام بننا نہیں چاہتا اور خادم بھی اس طرح کا کہ نہ میں اس کا تابع نہ وہ میرا تابع بلکہ اصول صحیح کا دونوں کو تابع ہونا چاہیے مگر اصول سے لوگ گبھراتے ہیں وصول کو پسند کرتے ہیں وصول سے مراد رقم اینٹھنا ہے چاہے پھر کچھ بھی حصول نہ ہو ۔
