ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر لوگ حضرت مولانا دیوبندی کو فخرا شیخ الہند کہتے ہیں اور لکھتے ہیں یہ مجھ کو اس قدر ناگوار ہوتا ہے کہ شیخ العالم کو شیخ الہند کہتے ہیں اگر ایسا ہی تھا تو شیخ العرب کہنا چاہیے تھا نسبت بھی کی تو کفر کے ملک سے یہ کون سے فخر کی بات ہے ۔ اصل میں یہ نیچریوں کا لقب تجویز کیا ہوا ہے مگر افسوس اپنی جماعت کے لوگ بھی بڑے فخر سے شیخ الہند کہتے ہیں ۔ بس افسوس ان کی سمجھ پر ہے اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ وائسرائے کو کوئی کانسٹیبل کہے ، کیا یہ اہانت نہیں ہے یہ تعریف ایسی ہی ہے جس کو مولانا فرماتے ہیں :
شاہ را گوید کسے جولاہا نیست ایں نہ مدح ست اور مگر آگاہ نیست
( کوئی بادشاہ کو کہے کہ وہ جولاہا نہیں ہے یہ تعریف نہ ہوئی مگر کہنے والا تعریف کے اصول سے واقف نہیں 12 )
نئے نئے لقب ایجاد ہو رہے ہیں ۔ امام الشریعت امام الہند ہمارے بزرگوں کو ہمیشہ ایسی باتوں سے اجتناب رہا ۔ ان حضرات کی زندگی سلف کا نمونہ تھی مگر آجکل وہ باتیں پرانی اور دقیانوسی خیال کی جاتی ہیں ۔
25 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یک شنبہ
