ملفوظ 332: ماسوی اللہ سے قلب کو خالی کرنے مطلب اور طریقہ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ قول محققین کا نہیں کہ تمام ماسوا کو دل سے نکال کر تب اللہ کی یاد دل میں جمائے جو ایسا کرتے ہیں سخت دھوکہ میں ہیں تمام ماسوا س قلب کا خالی ہو جانا نہایت مشکل ہے ایسا سمجھنا سخت غلطی ہے اس کی نافع تدبیر یہ ہے کہ جتنا خالی کرتا رہے اتنا ہی خیر سے بھرتا رہے اور ایسی خیر بہت سی چیزیں ہیں مثلا دین کے لئے علماء صلحاء سے تعلق اور دوستی سو یہ مضر نہیں ـ بلکہ مقصود کی معین ہیں لوگ ان باتوں کو سمجھتے نہیں ـ ان باتوں کو صاحب بصیرت سمجھتا ہے ـ امام شافعی رحمتہ اللہ کا قول ہے کہ جب سے یہ معلوم ہوا کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہو گی جنت کی تمنا ہو گئی ـ سو ایسے ہی دوست مراد ہیں ـ
