ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان دنیا داروں کو خصوص مالداروں کو منہ نہیں لگانا چاہیے ان میں اکثر خر دماغ ہوتے ہیں جی چاہتا ہے کہ کوئی ان کو اسپ دماغ ملے تب ان کا دماغ ڈھیلا ہو آج کل مدارس والے ان باتوں کا قطعا خیال نہیں کرتے انہوں نے ان کے دماغ زیادہ خراب کر دئیے ، نااہلوں کی چاپلوسی اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا بے حد مضر ہوتا ہے میں ایک مرتبہ مدرسہ میں گیا اتفاق سے ایک مولوی صاحب ایک مالدار کو پھانس کر لائے تھے ان مالدار کی درخواست پر مدرسہ کی جانب سے مجھ سے بیان کے لئے کہا گیا میں نے منظور کر لیا ہم لوگوں کا ایک ہی بیان ہوتا ہے اسی کے مختلف عنوان ہوتے ہیں اور وہ یہی ہے کہ اللہ سے تعلق بڑھاؤ غیراللہ سے تعلق گھٹاؤ چنانچہ میں نے جب دنیا کے متعلق بیان کیا اس شخص نے سن کر کہا کہ میں ایسے مدرسہ کی امداد نہیں کر سکتا جس میں ترک دنیا کی ترغیب دی جاتی ہو اور یہ بھی کہا کہ دیکھو مال کی مذمت کی جاتی ہے مگر مال ایسی چیز ہے کہ میں داڑھی منڈا ہوں بدافعال ہوں نہ شریعت کے موافق لباس ہے نہ اعمال ہیں ، محض مال میرے پاس ہے اس کی وجہ سے بڑے بڑے علماء میری تعظیم کو کھڑے ہو جاتے ہیں دیکھئے ان کی تعظیم و تکریم ایسی مضر ہوتی ہے میں کہا کرتا ہوں کہ متکبروں کی کبھی وقعت نہیں کرنا چاہیے چاہے ثقہ صورت ہوں ان متکبروں کو تو ہمیشہ نیچا ہی دکھانا چاہیے اور خصوص ان میں جو نیچری ہیں وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ دین کو بھی ہم ہی سمجھے علماء نہیں سمجھے بڑے بدفہم ہیں اور اس سب کا منشا تکبر ہی ہے یہ تکبر ایسی چیز ہے جس شخص میں یہ نہ ہو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سب کچھ ہے اور جس میں تکبر ہو اس میں اگر اور سب کچھ بھی خوبیاں ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ بھی نہیں اور اس میں امیر غریب کی قید نہیں کوئی بھی ہو حدیث شریف میں آیا ہے کہ رائی برابر ہی جس میں کبر ہو گا وہ جنت میں نہ جائے گا ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا کبر مطلقا مذموم ہے فرمایا کہ مطلقا تو کوئی خلق بھی مذموم نہیں باعتبار فعل کے اس کے انواع اور اقسام ہیں دیکھئے غصہ ہی ہے یہی غصہ سبب ہے جہاد کا اگر غصہ نہ ہو جہاد ہی نہیں کر سکتا تو یہ درجہ غصہ کا محمود ہے اسی طرح کبر کو سمجھ لیجئے چنانچہ جہاد میں خیلاء کو حدیث میں محبوب فرمایا گیا ہے اور درحقیقت وہ کبر نہیں ہوتا صورت کبر کی ہوتی ہے ۔
