ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیطان تو کم بختی مارا بدنام ہی ہو گیا ورنہ ہم جیسوں کے بہکانے کے لیے تو نفس ہی بڑی چیز ہے شیطان کی بھی ضرورت نہیں ، شطونگڑے ہی یعنی ذریت شیطان کافی ہیں باقی اگر ان سب کے شرور سے بچنا چاہو تو پہلے یہ معلوم کر لینے کی ضرورت ہو گی کہ دشمن مقابلہ پر کون ہے ؟ یہ معلوم ہو جانے کے بعد مقابلہ آسانی سے ہو سکتا ہے یعنی پہلے یہ معلوم کر لو اس خاص گناہ کی طرف شیطان رغبت دلا رہا ہے یا نفس سو اس کا معیار یہ ہے کہ جس وقت قلب میں معصیت کا وسوسہ پیدا ہو تو یہ دیکھو کہ باوجود بار بار کے دفع کرنے کے بعد اگر پھر وہی وسوسہ ہوتا ہے تو یہ نفس کی طرف سے ہے اس لیے کہ نفس کو گناہ سے محض حظ مقصود ہے اور خاص وقت میں حظ خاص ہی گناہ میں ہے اور اگر دفع کرنے کے بعد قلب سے وہ وسوسہ نکل جائے دوسرے گناہ کا وسوسہ پیدا ہو تو سمجھو کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اس لیے کہ شیطان کو کوئی خاص حظ مقصود نہیں بلکہ عداوت کی وجہ سے مطلق گناہ میں مبتلا کرنا مقصود ہے اس لیے یہ شخص اگر ایک سے ہٹے گا تو وہ اس کو دوسرے میں مبتلا کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زیادہ تر صدور معاصی کا نفس ہی کی طرف سے ہے مگر لوگ دھوکہ میں ہیں کہ ایسے خطرات کے وقت کثرت سے لاحول پڑھتے ہیں مگر پھر بھی وسوسہ میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی کیونکہ لاحول نفس کا علاج نہیں سو کتنی بڑی غلطی میں بوجہ عدم علم کے ابتلاء ہو رہا ہے نفس کا علاج کرو جو گناہ کرانے میں شیطان کی بھی اصل ہے ۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ اوروں کو تو شیطان بہکاتا ہے مگر شیطان کو کس نے بہکایا تھا ظاہر ہے کہ شیطان کو اس کے نفس نے بہکایا تھا تو اصل کون ہوا نفس ہی تو ہوا البتہ بعد میں حق میں دخل دونوں کو ہے ۔ جب یہ معلوم ہو گیا تو شیطان کا مقابلہ لاحول اور ذکر سے کرو اور نفس کا مقابلہ ہمت سے کرو ، آج کل گڈمڈ معاملہ ہے سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی ہے اسی لیے کسی کامل کی صحبت کی ضرورت ہے ۔ ایسے علوم اسی کی صحبت سے حاصل ہوتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے بھی زیادہ بھاری ہے کیونکہ وہ خود بھی اس کے مکروفریب سے بچتا ہے اور دوسروں کو بھی حقائق بتلا کر بچاتا ہے ۔
