ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر مدارس میں عمارتیں بڑی بڑی مگر اصل چیز علم و عمل گویا مفقود ۔ پھر فرمایا کہ یہ بھی غنیمت ہے جو کچھ ان لوگوں کے ہاتھ سے ہو رہا ہے خدا نہ کرے وہ دن آئے جب یہ لوگ بھی نہ ہوں گے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا ایسا وقت بھی آئے گا ، فرمایا ضرور آئے گا مگر اس میں بھی ایک جماعت اعلاء کلمۃ الحق کرتی رہے گی ۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں :
لا یزال طائفۃ من امتی منصورین علی الحق لا یضرھم من خذلھم
لا یزال فرماتے ہیں یعنی کہ ہمیشہ بلا فصل یہ جماعت رہے گی اور اصل حق کی تبلیغ کرتی رہے گی ۔
حتی تقوم الساعۃ یعنی قیامت تک اور اس جماعت کی دو شاخیں فرمائی ہیں ایک علی الحق جس کا مطلب ظاہر ہے دوسرے منصورین یعنی ان کی نصرت ہو گی اور ان پر کوئی شخص غلبہ پا نہیں سکے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو حق کے اظہار سے کوئی روک نہ سکے گا ۔ نیز ایک نصرت یہ ہے کہ جس طرح پہلے ادیان میں تحریف ہو چکی ہے اس میں نہ ہو گی ۔ یہ اس ہی جماعت کی برکت ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں باوجود اس کے کہ حضور کے زمانہ کو اس قد عرصہ گزر چکا مگر ان کی برکت سے حق و باطل ایسا متمیز ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حق ہے اور یہ باطل اگر کوئی خالص دین اور اس کے احکام معلوم کرنا چاہے تو نہایت سہولت سے معلوم ہو سکتے ہیں ۔
12 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
