ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معمولات تو افعال ہوتے ہیں اور اتباع اقوال کا ہوتا ہے اس لیے کسی بزرگ کے معمولات لکھنا بے کار ہے بلکہ یہ مؤرخین کا مذہب ہے کہ دوسروں کے معمولات لکھنے پڑتے ہیں طالب کو اس سے کیا بحث ، حضرت تعلیم پر عمل ہونا چاہیے کہ اصل چیز قدر کی یہی ہے اور نری تعلیم سے کیا ہوتا ہے اور اس کو پوچھتا کون ہے ؟
17 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
