ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص معزز ہے گو کپڑے پہنے ژولیدہ ( پھٹے پرانے ) مگر سوال نہ کرے بخلاف اسکے جو عبا و قبا پہن کر سوال کرے وہ معزز نہیں ایک صاحب کسی مقام پر کپڑے بدل کے گئے پرانی وضع کے آدمی تھے چوغہ و عمامہ زیب تن تھا محض براہ اخلاق ایک رئیس سے ملنے گئے اس نے دور سے دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ کوئی چندہ مانگنے والے ہیں گھر میں گھس گئے پھر اطلاع پر کہ سب جج ہیں تب باہر آئے یہ حالت ہو گئی ہے ان مانگنے والوں کی بدولت مجھ کو ایسی باتوں سے طبعی بفرت ہے جس کام کے لئے چندہ کی ضرورت ہے اس کام کی عام اطلاع کر دینا کافی ہے اس پر اگر کوئی اعانت اور امداد کرے قبول کرے ورنہ خیر علماء کو تو ان امراء کے دروازے پر جا کر ان سے سوال کرنا نہایت ہی نا پسندیدہ بات ہے اگر علماء چند روز بطور امتحان ہی ایسا کر کے دیکھیں تو یہ امراء خود ان کے دروازوں پر آئیں اور قدموں میں سر رکھنے کو تیار ہو جائیں ـ
