ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک مقام پر مسجد کے متعلق ہندو مسلمانوں میں جھگڑا ہو
رہا ہے ایک مسلمان جس کا نام جمال الدین ہے وہ ہندوؤں کی طرف سے مسجد کے معاملہ
میں رخنہ اندازی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں گا اور ہندوؤں سے کہتا ہے
کہ مسجد مت بننے دو میری بات توجھبی رہے گی فرمایا جمال الدین نہیں وہ تو زوال الدین ہے
عرض کیا کہ ایک بہت بڑے بزرگ سے مرید ہے ـ فرمایا کہ اس رسمی پیری مریدی کا کیا اثر ہو سکتا ہے لوگ بزرگوں کو بھی بدنام کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جب ضعف ہوتا ہے مسلمانوں ہی کی بدولت ہوتا ہے ـ
فرمایا کہ کس قدر دلیری اور گستاخی کی بات ہے کہ مسجد کے معاملہ میں مسلمان
ہو کر مخالفت ! ایسی بات سنکر بھی دل ڈرتا ہے حق سبحانہ تعالی کے قہر سے ڈرنا چاہئے ـ جمال الدین
پر یاد آیا ریاست بھوپال میں منشی جمال الدین صاحب وزیر ریاست تھے اس وقت وزارت
منصب برائے نام ہی رہ گیا ہے اس زمانہ میں وزیر ہی سلطنت کا مالک ہوتا تھا اور ان سے رئیسہ
نے نکاح بھی کر لیا تھا اس کی وجہ سے اعزاز اور بھی بڑھ گیا تھا ـ منشی جمال الدین کے نام سے مشہور
تھے مگر عالم تھے اور نہ منشی کا لقب بھی اس وقت معمولی نہ تھا ـ
غرضیکہ ان کا بہت بڑا اثر اور اعزاز تھا ـ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ مسجد میں لوگوں نے ان کو نماز پڑھانے کیلئے مصلے پر کھڑا کر دیا باوجود دنیا کی حیثیت سے بڑا ہونے کے انمیں حق پرستی
بہت ہی بڑھی ہوئی تھی اور جن رئیسہ سے نکاح ہوا تھا وہ بوجہ اپنی ریاست کے انتظام کے پردہ نہ کرتی تھیں ـ
یہ جس وقت مصلے پر پہنچ چکے اتفاق سے ایک مسافر ولایتی مولوی صاحب بھی وہاں
پر موجود تھے انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر مصلی پر سے کھینچ لیا کہ تمہاری بی بی پردہ میں نہیں رہتی تم کو
حق نماز پڑھانے کا نہیں کوئی اور نماز پڑھائے اب وزیر صاحب کی وجہ سے مصلے پر جائے کون ! کس کی
ہمت تھی بالخصوص ایسے گڑبڑ کے وقت جبکہ وزیر صاحب کی ناگواری کا اندیشہ تھا جب کوئی
آگے نہ بڑھا وہ مولوی صاحب ولایتی خود مصلے پر پہنچے اور اللہ اکبر کہ کر نماز کی نیت باندھ لی ـ
وزیر صاحب بے چارے کچھ نہیں بولے اور باجماعت نماز پڑھ اور سیدھے مسجد سے اس رئیسہ کے پاس
پہنچے اس وقت وہ رئیسہ اجلاس میں تھی برسر اجلاس سب کے سامنے اس رئیسہ کو مخاطب کرکے وزیر صاحب نے کہا کہ بی بی تمہارے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا یا تم اس وقت وعدہ کرو
کہ میں پردہ میں بیٹھونگی اگر وعدہ نہیں کرتی تو تین طلاق ـ حق پرستی کا کیا ٹھکانہ اللہ اکبر !کہ برسر
اجلاس صاف کہ دیا اور ذرا جھجک نہ ہوئی ـ
بات یہ تھی کہ گو رئیسہ تھی مگر تھی قدر دان ـ اور پھر آخر بیوی ہی تھی ـ انہیں کا ایک دوسرا واقعہ ہے
تعظیم دین کا ـ ایک مرتبہ ان کے یہاں کوئی تقریب تھی اس میں بڑے بڑے لوگ مدعو تھے اہل محفل کو کھانا رکھا جا رہا تھا کہ ایک بھنگی آیا آکر عرض کیا کہ میاں سلام میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں
وزیر صاحب نے سب کام چھوڑ چھاڑ اسے مسلمان کیا اور خدمتگار کو حکم دیا کہ اس کو حمام میں لے
جا کر غسل کراؤ اور ہمارے جوڑوں میں سے ایک جوڑہ پہنا کر لاؤ تمام حاضرین کو حیرت ـ خدمتگار
نے غسل دلا کر جوڑہ پہنا کر حاضر کر دیا کہ د ستر خوان پر بٹھلاؤ ـ د سترخوان پر بڑے بڑے لوگ تھے ـ یہ دیکھ کر لوگوں کے تیور بدل گئے منشی صاحب نے فرمایا کہ آپ صاحب پریشان نہ ہوں آپ
کے ساتھ اس کو نہ کھلاؤں گا اس کے ساتھ میں کھاؤں گا ـ یہ اس قدر پاک صاف ہے کہ اس وقت
مجلس میں بھی کوئی ایسا پاک صاف نہیں یہ ابھی مسلمان ہوا ہے اس کے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں
اس کے ساتھ کھانے کی دولت میں نے اپنے لئے تجویز کی ہے ـ آپ حضرات کی قسمت ایسی کہاں کہ
ایسے شخص کے ساتھ کھا کر برکت اور شرف حاصل کرو تم گھبراؤ مت میں اس کے ساتھ کھاؤں گا ـ
غرضیکہ اس نو مسلم کے ساتھ اسی وقت بیٹھ کر کھانا کھا لیا ـ کس قدر بے نفسی اور حق پرستی کی بات ہے ـ فرمایا کہ ایک مرتبہ ساری عمر میں مجھ کو ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ـ
میں کالپی گیا تھا ایک شخص نہایت صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے جامع مسجد میں نماز پڑھنے آیا ـ بعض لوگوں نے مجھ
سے کہا کہ یہ نو مسلم ہے پہلے بھنگی تھا اب مسلمان ہو گیا ہے یہاں کے چودھری ساتھ کھلانا تو بڑی
بات ہے اس کی چھوئی ہوئی ہاتھ کی چیز کو بھی قبول نہیں کرتے میرا وہاں پر جانا ایک جلسہ کی وجہ سے
ہوا تھا اس جلسہ میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے اور وہ نو مسلم بھی تھا ـ
بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اس موقع پر ان لوگوں کو سمجھا دو کہ ایسا بچاؤ اور پرہیز
مسلمان ہو جانے کے بعد نہیں کرنا چاہئے اس میں اس کی دل شکنی ہے میں نے دل میں خیال کیا
کہ دل شکنی بھی نہیں اس میں تو دین شکنی کا بھی اندیشہ ہے مگر نرے سمجھانے اور زبان سے کہہ دینے سے کیا کام چلے گا ـ یہ لوگ پرانی وضع کے ہیں اثر قبول کریں گے ـ میں نے کہا بہت اچھا !
میں سمجھاتا ہوں ایک لوٹے میں پانی منگاؤ غرضیکہ پانی آیا میں نے اس نو مسلم سے کہا کہ اس کو ٹونٹی
سے منہ لگا کر پانی پیو اس نے پیا ـ اس کے ہاتھ سے لوٹا لے کر اور اسی طرح منہ لگال کر اس کا بچا ہوا
پانی جھوٹا میں نے پیا پھر میں نے اس مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کہا تم بھی پیو اس وقت سوائے
مان لینے اور پانی کے کسی کو کوئی عذر نہ ملا سب نے طوعا و کراہا پیا ـ اس کے بعد میں نے ان
لوگوں سے کہا کہ دیکھو اب اس نو مسلم سے پرہیز نہ کرنا کہنے لگے کہ جی اسے پرہیز کرنے کا ہمارا
منہ ہی کیا رہا تم نے تدبیر ہی
ایسی اختیار کی کہ ہمارا سارا دھرم ہی لے لیا ـ اب اطمینان رکھو اس
کو تو ہم ساتھ کھلا پلا بھی لیا کریں گے ـ
فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ میں پی تو گیا مگر اندر سے جی رکتا تھا اللہ معاف کرے اور کچھ یہ بات اسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کسی کا جھوٹا پانی یا کھانا مجھ سے نہیں کھایا جاتا ـ کچھ اندر سے
رکاوٹ ہوتی ہے اگر سبب اس کا کبر ہے تو حق تعالی معاف فرمائیں اور اگر سبب اس کا ضعف طبیعت ہے تو معذور ہے یا اگر زیادہ تاویل کوئی معتقد کرے تو یہ کہ لطافت ہے نفس بھی عجیب چیز ہے
خود ہی ایک خوب صورت عنوان تراش کر بتلا دیا میں نے کبھی بزرگوں کا جھوٹا پانی یا کھانا بھی
نہیں کھایا پیا الانادرا ـ مگر پھر بھی اللہ تعالی کا فضل و احسان ہے کہ ان کی کسی برکت سے محروم نہیں
رکھا ـ اپنے بزرگوں کے یہاں اصلی ہی چیزیں اس قدر تھیں کہ ان کی ہی برکت کافی ہو گئی ـ ان
زائد چیزوں
کی حاجت ہی نہیں ہوئی اور یہ نکتہ شاعرانہ تھا دل خوش کرنے کو بیان کر دیا ورنہ کوئی چیز
بھی ان حضرات کے یہاں زائد نہ تھی سب اصلی ہی تھیں لیکن اصلی دوسری اصلی کا بدل تھا ـ
غرض یہ حکایت ہے جو مجھ کو تمام عمر میں ایک مرتبہ پیش آئی اس پر میں حق سبحانہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ گو طبعا کراہت ہوئی مگر الحمداللہ عقلا اس کو نہایت خوشی کے ساتھ دل نے قبول کرلیا ـ خلاصہ یہ ہے کہ اسی حق تعالی سے ڈرنا چاہیے اس کی وہ قدرت ہے کہ کافر کو چاہیں مومن
کر دیں اور مومن کو چاہیں تو نعوذباللہ کافر کردیں خوب کسی نے کہا ہے ؎
کعبہ میں پیدا کرے زندیق کو ٭ لاوے بت خانہ سے وہ صدیق کو یہ گلزار ابراہیم کا شعر ہے یہاں صدیق سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جیسا کلام اللہ میں حق تعالی فرماتے ہیں
:انہ کان صدیقا نبیا وہ بت خانہ سے کعبہ میں آئے اور
زندیق سے مراد ابو جہل ہے ـ
حضرت خدا سے ڈرنا چاہئے اپنے ایمان پر کبھی انسان نازاں نہ ہو اور کسی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے ـ
حتی کہ کسی کافر کو بھی حقیر ذلیل نہ سمجھنا چاہئے ـ کہ شاید مسلمان ہو جائے نہ کہ مسلمان
ہونے کے بعد بھی ذلیل سمجھا جائے یہ نعوذ باللہ خدا کا مقابلہ ہے ـ خدا جانے آئندہ کیا ہونے والا
اور ہمارے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے ـ
