( ملفوظ 503)مسئلہ تقدیر اور خیر و شر کی نسبت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ صاحب یہ مسئلہ بہت ہی نازک ہے پھر فرمایا کہ ہے تو سب خدا ہی کا پیدا کیا ہوا ، شر بھی اور خیر بھی مگر ادب یہ ہے کہ خیر کی نسبت خدا کی طرف کرنا چاہیے اور شر کی نسبت اپنی طرف جس کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں نسبتیں ہیں ایک خلق کی اور ایک کسب کی تو خیر میں تو مراقبہ ان کی طرف کی نسبت کا کرے کسب کا استحضار نہ کرے اور شر میں مراقبہ اپنی طرف کی نسبت کا کرے خلق کا نہ کرے غرض خیر میں تو نسبت خلق کو مستحضر کرو اور شر میں نسبت کسب کو مستحضر کرو ۔