( ملفوظ 42 ) مصلحت کی وجہ سے اپنے ہاتھ پر مسلمان نہ کرنا ۔

آج پھر وہی صاحب اہل قصبہ میں سے جن کا قصہ قریب ہی مذکور ہوا حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت اس کو مسلمان کر
لیا جائے ، فرمایا کہ اس میں شبہ کیا ہے ، عرض کیا کہ وہ یہاں پر آ کر مسلمان ہونا چاہتی ہے ، فرمایا کہ اس کے متعلق تو میں کل مصلحت بیان کر چکا ہوں کہ مشاہیر سے ایسے کام نہ لینے چاہیئں اس میں فتنے کا احتمال ہے ، دشمنی بڑھے گی ، سوئے ہوئے فتنہ کو جگانا ہے اور غیر مشاہیر میں فتنہ نہیں ، کسی کو التفات بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے ، لوگوں کو کام کرنے کا طریقہ بھی تو معلوم نہیں ۔