ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مختلف بزرگوں سے ملنے میں آج کل اندیشہ ہے اول تو بہت سوں کی بزرگی ہی میں کلام ہے محض رسم ہی رسم ہے نام کے بزرگ اس زمانہ میں بہت ہیں کام کے بہت کم ہیں ہاں اگر خود فہیم ہو کہ اندیشہ نہ ہو اپنے پھسلنے کا اور دوسروں کی مضرت کا اندیشہ نہ ہو تو مضائقہ نہیں عرض کیا کہ دوسروں کی مضرت کا اندیشہ نہ ہو یہ تو مشکل معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ اس کا بھی فہم سے تعلق ہے اب اس کو آپ خود سمجھ لیں ، میں نے تو ایک کلیہ بیان کر دیا جزئیات کو آپ خود منطبق کر لیں ۔
