( ملفوظ 231 ) مربی کی تعلیم کے خلاف نہ کرے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مربی کی تعلیم کے کبھی خلاف نہ کرنا چاہیے ویسے تو اس کی مخالفت سے موقت ( وقتی ) نقصان ہو ہی گا مگر اس سے جو عادت خلاف کرنے کی پیدا ہو گی ۔ یہ آئندہ ہمیشہ کے لیے قوت استعداد کو فنا کر دے گی پھر مصلح کی موافقت کی نظیر میں فرمایا کہ کل ہی کا میرا واقعہ ہے کہ حکیم صاحب نے مجھ کو ایک رقعہ لکھا کہ کل دوائیں چھوڑ دو ، میں نے ایک دم چھوڑ دیں ، قلب میں اس کا وسوسہ بھی نہیں آیا کہ ایک دم کیوں سب چھڑا دیں ۔