ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کی مثال طبیب کی سی ہے کہ وہ فن میں اختراع نہیں کرتا مگر فن کے اصول سے دقائق کو سمجھ لیتا ہے ان دقائق پر ایک واقعہ نقل کیا کہ ایک مرتبہ گھر میں سے اپنے میکہ گئیں ، جاتے وقت مجھ سے یہ کہا کہ مرغیاں ہیں ان کو خیال کر کے صبح ہی جب نماز کو جانے لگو ، کھول دیا جایا کرے ، ایک روز کھولنا یاد نہیں رہا اس روز صبح کو بکس میں ایک طالب علم کا پرچہ ملا جس میں اپنی حالت کا اظہار کر کے جواب مانگا تھا میں نے اس پرچہ کو پڑھ کر ہر چند کوشش کی کہ جواب لکھوں مگر کوئی جواب شافی قلب میں نہ تھا ، جب قطعا شرح صدر نہ ہوا تو اب فکر ہوئی کہ اس کا کیا سبب ہے ، یاد آیا کہ مرغیاں بند اور محبوس ہیں اس وجہ سے قلب کو محبوس کر دیا گیا گھر پہنچا مرغیاں کھولیں پھر جو واپس آ کر وہ مضمون پڑھا تو جواب میں شرح صدر ہو گیا ۔ اب یہ دقیق بات کتابوں میں کہاں لکھی ہے ۔
