( ملفوظ2 )مصافحہ کے آداب اور نظم کی اہمیت

( ملفوظ 2 ) بعد فراغ نماز جمعہ حضرت والا مسجد کے مصلے سے اٹھ کر بارادہ سہ دری تشریف لے چلے ، لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا بوجہ کثرت ہجوم حضرت والا نے فرمایا کہ جو صاحب جہاں پر ہیں اطمینان سے کھڑے رہیں اور جو آگئے ہیں وہ مصافحہ کر کے چلتے رہیں خواہ کتنا ہی وقت صرف ہو میں جب تک سب سے مصافحہ نہ کر لوں گا اس وقت تک سہ دری میں نہ جاؤں گا مگر کسی نے بھی اس پر عمل نہ کیا اور ایک کے اوپر ایک گر رہا تھا اس کشمکش کی وجہ سے حضرت والا کو بھی سخت اذیت پہنچی ۔ حضرت والا مصافحہ سے ہاتھ روک کر سہ دری میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ طبائع میں کوئی نظم نہیں انتظام نہیں ۔ باوجود کہہ دینے کے بھی پرواہ نہیں کی جاتی ، پھر اس پر بدنام کرتے ہیں کہ اخلاق اچھے نہیں ان کی وجہ سے تکلیف اٹھاؤ ، مر جاؤ جب اخلاق اچھے ہوں میں نے یہاں تک کہا کہ میں خود آ رہا ہوں چاہے ایک گھنٹہ صرف ہو جائے مگر سب سے مصافحہ کر لوں گا گڑ بڑ نہ مچاؤ مگر گنوار دل سنتا کون ہے خدا کی پناہ کسی کے دکھ آرام کی پروا ہی نہیں جو اپنا جی چاہے کرتے ہیں ۔ آگے کوئی مرے یا جئے ان کی کیا خبر ایسی کشمکش میں انسان کا کھڑا رہنا مشکل ہے مجھ کو اندیشہ اپنے گر جانے کا ہو گیا تھا اور ادھر آنت اتر آئی جس کے بعد میں ایک منٹ بھی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ۔ یہ جس قدر بدعتیں ہیں سب میں تکلیف ہے یہ نماز کے بعد کا مصافحہ بدعت ہے اور جس قدر سنتیں ہیں سب میں دنیا کی بھی راحجت ہے اور آخرت کی بھی راحت ۔ اب جو لوگ نرمی کا مشورہ مجھ کو دیتے ہیں وہ آ کر اس منظر کو دیکھیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجھ کو یہ ہنگامہ خیز صورت اچھی بھی نہیں معلوم ہوتی ، طبعی نفرت ہے اس میں ایک شان ہے ترفع کی سی ریاست کی ۔ نیز اس بات کا ہر شخص کو خیال رکھنا چاہیے کہ دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور جناب ایسی کھینچا تانی میں تو بیل بھی گر جائے نہ کہ آدمی سب اپنی اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں خود ہی پہنچ جاتا ، اب بیکار کھڑے ہیں ، کھڑے ہونے کی تو فرصت ہے اور مصافحہ کرنے میں عجلت کر رہے تھے کہ شاید پیچھے سے غنیم کی فوج آ رہی ہے جہاں حکومت ہے ذرا وہاں تو ایسا کریں البتہ پنجاب کے پیروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا کریں وہ اس خوش ہوتے ہیں مگر ہمیں تو اس سے مناسبت نہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ایسے رہتے تھے جیسے کوئی ہے ہی نہیں ۔ حضرت والا یہ فرما ہی رہے تھے کہ ایک شخص دیہاتی اہل مجلس کے کاندھوں کو پھاندتا ہوا مصافحہ کی غرض سے حضرت والا کی طرف چلا آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ بھائی وہیں سے کہو جو کہنا ہے اتنے مسلمانوں کو کیوں تکلیف دیتے ہوئے چلے آ رہے ہو ، عرض کیا مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا بندہ خدا اسی کا تو ذکر ہو رہا ہے ، کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے جس کی وجہ سے اتنے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ۔ ایک مستحب کے لیے اس قدر اہتمام کیونکہ مصافحہ محض مستحب ہے اور تکلیف نہ پہنچانا فرض ہے اس کامطلق بھی خیال نہیں ۔ لوگ یہ بات ہی بھول گئے کہ کسی مسلمان کو اپنے سے تکلیف نہ پہنچے اور یہ کہ تکلیف کا پہنچانا گناہ ہے کچھ نہیں بدتمیز ہیں کچھ خبر نہیں جائز ناجائز کی پھر اس شخص سے فرمایا جاؤ ہٹو پیچھے وہاں جا کر بیٹھو ۔ فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ کھانا کھانے کے وقت میں سلام نہ کرے میں نے اس میں غور کیا یہ راز معلوم ہوا کہ ممکن ہے.
پیروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا کریں وہ اس خوش ہوتے ہیں مگر ہمیں تو اس سے مناسبت نہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ایسے رہتے تھے جیسے کوئی ہے ہی نہیں ۔ حضرت والا یہ فرما ہی رہے تھے کہ ایک شخص دیہاتی اہل مجلس کے کاندھوں کو پھاندتا ہوا مصافحہ کی غرض سے حضرت والا کی طرف چلا آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ بھائی وہیں سے کہو جو کہنا ہے اتنے مسلمانوں کو کیوں تکلیف دیتے ہوئے چلے آ رہے ہو ، عرض کیا مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا بندہ خدا اسی کا تو ذکر ہو رہا ہے ، کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے جس کی وجہ سے اتنے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ۔ ایک مستحب کے لیے اس قدر اہتمام کیونکہ مصافحہ محض مستحب ہے اور تکلیف نہ پہنچانا فرض ہے اس کامطلق بھی خیال نہیں ۔ لوگ یہ بات ہی بھول گئے کہ کسی مسلمان کو اپنے سے تکلیف نہ پہنچے اور یہ کہ تکلیف کا پہنچانا گناہ ہے کچھ نہیں بدتمیز ہیں کچھ خبر نہیں جائز ناجائز کی پھر اس شخص سے فرمایا جاؤ ہٹو پیچھے وہاں جا کر بیٹھو ۔ فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ کھانا کھانے کے وقت میں سلام نہ کرے میں نے اس میں غور کیا یہ راز معلوم ہوا کہ ممکن ہے
اس وقت گلے میں لقمہ ہو اور سلام کا جواب دیتے میں اٹک جائے ، پھندا پڑ جائے اور مر جائے جب بے موقع اور بے محل سلام کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آج کل کی حالت دیکھ کر تو مصافحہ کو فقہاء حرام ہی کہتے ۔ اگر دین کی محبت ہے یا ہم سے محبت تو فرصت میں آ کر مصافحہ کیوں نہیں کرتے اور کیوں نہیں آتے جس کو مصافحہ کرنا ہو وہ گھر سے ملاقات کےقصد سے آ کر کیا کرے ، یہ کیا کہ آئے تو وہ نماز کو لاؤ یہ بیگار بھی کر چلو مجھ کو اس وقت اس قدر تکلیف ہوئی اور اذیت پہنچی کہ اس وقت تک حواس درست نہیں ہوتے ، مسجد ہی میں گھیر لیا ۔ ہوا رک رہی ہے روشنی کثرت ہجوم سے بند ہے ، آنت اتر آنے کی وجہ سے گرانی ہو رہی ہے ، میں کہہ رہا ہوں کہ ارے بھائی ٹھر جاؤ اور کئی مرتبہ کہہ چکا مگر جب کسی نہ سنا مصافحہ سے ہاتھ سمیٹ کر چلا آیا ، بے تنخواہ کے نوکر یا نافرمان نوکر جیسے ہوتے ہیں ایسے پیچھے پڑ گئے ، اللہ بچائے بے عقلی اور بد فہمی سے اب وہ لوگ آئیں جو مجھے سخت فرماتے ہیں ۔ اس واقعہ کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کون بے رحم اور کون سخت ہے گھر بیٹھے تو فیصلہ کر دینا تو بہت آسان ہے لوگوں کی ان ہی بیہودہ حرکتوں سے حضرت رائے پوری کو سخت اذیت پہنچی ، بیماری میں آرام نہ مل سکا ۔ آخر حضرت نے یہی فرمایا کہ تھانہ بھون کی رائے صحیح ہے ۔ یہاں پر مرحوم مولوی محمد عمر صاحب تھے ، ان رعایات سے بیمار رہتے تھے ایک شخص نے میری اور ان کی دعوت کی ۔ مولوی صاحب کو جگر کا عارضہ تھا اس بھلے مانس نے چاول پکوائے ، وہ بھی کھانے کے قابل نہیں ، جب کھانے بیٹھے ، میں نے میزبان سے کہا کچھ اور بھی ہے کہا نہیں ، میں نے کہا کہ یہ تو کھانے کے قابل نہیں ، اب کیا کھائیں اور جب تم کو چاول پکانا نہیں آتا تھا تو کیوں پکایا سیدھی دال روٹی کیوں نہیں پکائی ، کہیں سے روٹی لاؤ کہا کہ روٹی تو نہیں پکائی ، میں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے ، جب دعوت کی ہے تو کھلاؤ اور کہیں سے کھلاؤ ، بھوکے تھوڑے ہی جائیں گے اور کھائیں گے روٹی کہا کہ روٹی کہاں سے لاؤں ، میں نے کہا کہ گھر میں نہیں تو محلہ سے مانگ کر لاؤ گیا مصیبت کا مارا اور دال روٹی لایا ، خوب پیٹ بھر کر روٹی کھائی ۔ میں نے مولوی محمد عمر صاحب سے بھی روٹی کھانے کو کہا مگر وہ بہت خلیق تھے ، کہنے لگے اس کی دل شکنی ہو گی میں نے کہا کہ ہماری جو شکم شکنی ہو گی ، میں نے تو اس کی تادیب کے لیے یہی انتظام کیا جس سے اس کو ہمیشہ کے لیے سبق مل گیا ۔ گو میری پھر اس شخص نے کبھی دعوت نہیں کی ، تمیز کی ضرورت ہے اب یہی مصافحہ کا یہ واقعہ ہو رہا ہے ۔ ان گنواروں کو اپنی کوتاہی بالکل نہیں معلوم ہو گی ، مجھ کو ہی بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ملنے میں یا مصافحہ میں کیا سو سیکڑے خرچ ہوتے تھے ۔