ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کی باگ ہے اصل ذمہ دار تو ان خرافات تحریکات کے وہ ہیں انہوں نے عوام بیچاروں کے دین و ایمان برباد کیے ۔ خصوص وہ علماء کہ جنہوں نے لیڈروں کے ہم خیال بن کر جھوٹے جھوٹے فتوے شائع کیے اور ہزاروں مسلمانوں کی ملازمتیں چھڑوا دیں اور ہزاروں کی جانیں ضائع کرا دیں ، آنکھ بند ہونے پر پتہ چل جائے گا حق تعالی اپنا رحم فرمائیں اس دین فروشی کی کچھ حد ہے کہ قربانی گاؤ کو کہ جس کو ہزاروں لاکھوں مسلمان اپنی جانیں دے کر ہندوستان میں قائم کر گئے اس کو چھوڑ دینے پر آمادہ ہو گئے ( لفظ آمادہ پر ) مزاحا فرمایا کہ مادہ ہی بن گئے جس سے ان کو اس طرح خطاب کیا جا سکے آمادہ نر نہ رہے کسی ایک شعار اسلام کو چھوڑ دینا بھی تمام ہی احکام اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے اور دوسری قوموں کو بتلا دینا ہے کہ سب احکام اسلام ایسے ہی ہیں کہ ان کو کسی کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں یہ ہیں عقلاء جو مسلمانوں کی باگ ہاتھ میں لے کر ان کے سفید و سیاہ کے مالک بنے ہوئے ہیں جن کو اتنی تک بھی خبر نہیں کہ اس کا انجام کیا ہو گا اور ان باتوں کا اثر کیا ہے کچھ خبر بھی ہے آج تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ گائے کی قربانی بند کرو ، کل کو کہیں گے کہ کلمہ چھوڑ دو تو ہم تم میں اتفاق ہو ۔ حقیقت میں تو یہ ساری دشمنی کلمہ پڑھنے ہی کی بدولت ہے تو کیا اسلام ہی کو خیر باد کہہ کر اس سے الگ ہو جاؤ گے اس لیے کہ اتفاق کو ضروری اور فرض واجب سمجھتے ہو جیسے ایک نیچری نے ایک ضروری اختلاف پر اعتراض کیا تھا کہ نااتفاقی شرک سے بھی بدتر ہے اور احمق نے موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام
کے واقعہ سے استدلال کیا تھا ۔ ہارون علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کے اس سوال کے ما منعک اذ رایتھم ضلوا ان لا تتبعن جواب میں فرمایا تھا : انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرائیل الخ اس کا جواب صحیح تفسیر جاننے سے واضح ہے ۔ بیان القرآن میں اس کی بہت صاف تقریر ہے ۔ خیر اس بے چارے نیچری نے تو آپس کے یعنی مسلمانوں کے افتراق کو شرک سے بدتر بتلایا تھا اور یہاں پر تو اسلام اور کفر کے افتراق کو کفر سے بدتر سمجھ کر اسلام و کفر کے اتحاد پر اسلام کو اور احکام اسلام کو قربان کرنا چاہتے ہیں ۔ حق تعالی رحم فرمائیں اور فہم سلیم اور عقل کامل عطا فرمائیں ۔
