ملقب بہ تکمیل العنفتہ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لوگوں کے دین کو کچھ انگریزی نے کچھ افلاس نے کچھ بد فہمی نے ملکر خراب و برباد کر دیا آجکل تو انگریزیت کا غلبہ بعض عورتوں پر بھی ہو چلا ہے یہاں تک نوبت آ گئی ہے کہ ایک بہت بڑے دیندار خاندان کے رئیس کی بیوی کا میرے پاس خط آیا تھا اپنے نام کے ساتھ لکھا تھا کہ فلاں لیڈی میں نے لکھا کہ اگر اپنے نام کے ساتھ یہ لکھا جاتا کہ فلاں بیگم تو یہ اچھا تھا بس یہ عزت بڑھی کہ آدمی سے لیڈی بن گئیں میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ جب کسی عورت کا خط آتا ہے تو لکھ دیتا ہوں کہ اپنے خاوند کے دستخط کرا کر بھیجو ـ اس میں بھیجنے والے کی دینی مصلحت بھی ہے اور دنیوی بھی تاکہ کہیں بے محل خط نہ لکھ سکیں اور یہ سمجھیں کہ بدون خاوند کی اجازت کے خط و کتابت کرنا جائز نہیں ادھر خاوند کو اطمنان رہے کہ بدوں میری اجازت کے یہ ایسا نہیں کرتی غرض اس میں بڑی مصلحت ہے اور جگہ ان باتوں کا خیال بھی نہیں کیا جاتا ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بے پردگی کی وبا بھی عام ہو چلی ہے تمام غیر محرم گھروں میں آتے ہیں جن سے پردہ فرض ہے اس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی جو مفاسد ان کے باہر پھرنے سے پیدا ہوتے ہیں وہ اس صورت میں گھروں کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں ایسا پردہ حقیقت میں پردہ نہیں ہے محض عرفی پردہ ہے ایک صاحب نے بطور اشکال کے مجھ سے کہا تھا کہ پردہ کے اندر بھی تو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں میں نے کہا کہ پردہ کے اندر قیامت تک خرابی اور مفاسد پیدا نہیں ہو سکتے جب مفاسد ہوں گے بے پردگی ہی سے ہوں گے کیونکہ ہر خرابی سے پہلے آپس کا سامنا ہی ہو گا وہ اس عرفی پردہ کو پردہ سمجھے ہوئے تھے اس وقت انکی آنکھیں کھلیں اور حقیقت کو سمجھے اور بہت مسرور ہوئے اور یہ کہا کہ میں بہت
عرصہ سے اس شبہ میں مبتلا تھا آج منکشف ہوئی اور یہ مرض بے پردگی کا مسلمانوں میں دوسری قوموں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ بدلتا ہے پردے میں اصل ضرورت بدن چھپانے کی ہے جس میں کوتاہی ہوتی ہے محض چہار دیواری میں بیٹھنے کا اور نا محرموں کے سامنے ہونے کا نام پردہ نہیں عورتیں بکثرت عفیف ہوتی ہیں مگر وہ بھی پردہ کے اس حکم شرعی سے مستثنی نہیں نیز نفس پر کیا بھروسہ اور کیا اطمنان جیسے سانپ پر کیا اطمنان حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تمام امت کی مائیں ہیں مگر انکو بھی حکم تھا کہ امتیوں سے پردہ کرو اسی طرح امتی بیٹیوں کو حکم تھا کہ اپنے رحانی باپ سے یعنی پیغبر سے پردہ کرو اور اصل تو یہ ہے کہ پردہ کے لئے اسی کی ضروت کہ قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت ہو آخر غیرت و حمیت بھی تو کوئی چیز ہے وہ فطری ہونے کے سبب کافی داعی ہے بلکہ شریعت خود بالکل فطری چیز ہے چناچہ جس میں احتمال بعید بھی مفاسد کا ہوتا ہے خود بخود قلب میں اس سے کھٹک پیدا ہو جاتی ہے چناچہ جنکا مفسدہ فطرۃ بہت زیادہ مین تھا وہاں تشریع صریح ہی کی حاجت نہیں ہوئی دیکھئے یہ تو حکم ہے کہ شراب نہ پیو اور یہ نہیں فرمایا کہ پیشاب نہ پیو کیونکہ اسکی گندگی فطری ہے سو جس چیز کی ممانعت کی ضرورت نہ تھی اس بناء پر وہ فطری ہے بعض جگہ اس میں بھی ممانعت کر کے بندوں پر احسان فرما دیا کہ اس کے احکام بتلا دیئے ورنہ فہم سلیم کے ہوتے ہوئے اس کی کچھ بھی ضرورت نہ تھی لیکن باوجود عدم ضرورت کے اگر یہ امر پیش نظر رکھا جائے کہ احکام کا تعلق مختلف طبقات سے ہے جس میں بعضے فاسد الفطرت بھی ہیں تو پھر یہ شبہ بھی نہ ہو گا کہ باوجود فطری ہونیکے پھر کیوں ظاہر کیا گیا جواب ظاہر ہے کہ اس اظہار کا داعی فساد فطرت ہے اور یہ مدعیان بے پردگی جو اپنے مدعا کے دلائل بیان کرتے ہیں وہ نہایت لچر اور اصول عقلیہ کے بھی خلاف ہیں آخر ان کو بھی تو کسی مدعا کا قائل ہونا پڑے گا مطلقا بے پردگی کے تو یہ بھی قائل نہیں تو جو مفاسد مطلقا بے پردگی سے پیدا ہوں گے اگر اس مابہ النزاع درجہ سے بھی وہی پیدا ہو جاویں تو پھر ان کے پاس کیا جواب ہے بعض لوگوں نے یہ مسئلہ فقہیہ یاد کر رکھا ہے کہ چہرہ تو ستر نہیں مگر یہ نہ دیکھا کہ اصل جزب قلب کے باب میں چہرہ ہی ہے چناچہ جو شخص چہرہ دیکھ لیتا ہے اس کو دوسرے اعضاء کے دیکھنے کی خواہش نہیں اور جو شخص دوسرا عضو دیکھ لے مثلا کلائی کو دیکھے تو چہرہ دیکھنے کی اس کو ضرور خواہش ہوگی ـ سو ان بے غیرتوں کو شرم نہیں آتی کہ سر کھولنے کو تو جائز نہ سمجھیں اور چہرہ کھولنے کو جائز سمجھیں حسن و جمال تو جو کچھ ہے وہ ہی میں ہے سو اس کا پردہ تو سب سے زیادہ ہونا چاہیئے مگر غایت مجبوری والیوں کو رفع حرج کے لئے اس میں سہولت کر دی ہے یہ نہیں کہ بلا ضرورت حسن فروشی کرتی پھریں پس شریعت نے نہ تو تنگی کی اور نہ وسعت دی ہر امر میں اعتدال رکھا ہے اسی اعتدال کو کسی نے کہا ہے ـ
گر چہ خدا گفت کلوا واشر بوا لیک نفر مود کلواتا گلو
غالب نے تمسخر سے کہا تھا ـ
ہم تو توبہ جب کریں گے شراب و کباب سے قرآن میں جو آیا کلوا وشربوا نہ ہو
کسی نے خوب جواب دیا ہے ـ
تسلیم قول آپ کا ہم جب کریں جناب جب آگے واشربو کے ولا تسرفوا نہ ہو
شریعت سراپا اعتدال و حفظ حدود ہے اس حفظ حدود پر ایک واقعہ یاد آگیا وہ یہ کہ ایک صاحب تھانہ بھون کے رہنے والے ولایت گئے تھے ان کی توجہ سے بعض بڑے طبقہ کے انگریزوں نے اسلام قبول کر لیا چناچہ ایک انگریزی خاتون نے جو کسی کالج کی پرفیسر تھی اپنے مسلمان ہوجانے ک مجھ کو اطلاع دی اور اسلامی نام رکھنے کی استدعاء کی اس عورت نام بڑا ڈے ہے میں نے بریدہ تجویز کیا وہ بے حد مسرور ہوئی دونوں ناموں میں نقلی تناسب کی وجہ سے ایک دوسرے انگریز نے ان ہی صاحب کے ذریعہ سے ایک خط مجھ کو لکھوایا کہ میں تھانہ بھون آنا چاہتا ہوں مع اپنی بیوی کے ہندستان دیکھنے کو بیحد جی چاہتا ہے آپکے یہاں پردہ ہے ہمارے یہاں پردہ نہیں تو کیا ایسی حالت میں آپ لوگ ہم کو حقیر نہ سمجھیں گے ـ اب مجھ کو سوچ ہوئی اگر لکھتا ہوں کہ پردہ کی ضرورت نہیں تو نصوص سے ثابت ہے نفی کیسے ہو سکتی ہے اور اگر پردہ کرنے لکھتا ہوں تو ان کو بوجہ عادت نہ ہونیکے وحشت ہوگی بس اسی حفظ حدود کی اصل پر یہ سمجھ میں آیا کہ اور اعضاء تو مستور ہوں ہی گے صرف چہرہ کھلا ہوگا تو چہرہ چھپانے سے اصل مقصود ہے دفع فتنہ اور فاتح قوم کی ایک ہیبت ہوتی ہے مفتوح قوم پر اس لئے گنجائش دیں گے بخلاف ہمارے کہ ہندستان میں ہم آپس میں سب برابر ہیں ایک دوسرے پر کوئی ہیبت کا اثر نہیں اس لئے یہ گنجائش نہ دیں گے اور میں نے یہ جواب اخز کیا حجۃاللہ البالغہ کے ایک تعلیل سے جو انہوں نے امام شافعی کے ایک فرع متعلق ذکر کی ہے سیدہ کا اپنے غلام سے عدم حجاب ہے حجتہ اللہ میں اس کی علت یہی ہیبت بیان فرمائی ہے مگر یہ جب کہ جب طبیعت میں سلامتی ہو جیسے آئمہ کے زمانہ میں تھی اور امام صاحب نے اس میں اس لئے اختلاف فرمایا کہ آئندہ طبیعتیں سلیم نہیں ہوں گی غرض میں نے امام شافعی کی اصل پر اسی انگریز کو جواب لکھ دیا کہ تم کو اجازت ہوگی ـ کہ پردہ نہ کریں مگر پھر وہ آئے گئے نہیں ـ
23 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
( ملفوظ 116 )دوسروں کی مصلحت کو اپنی نیک نامی پر مقدم رکھنا
ایک نو وارد صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو کوئی ایسی بات نہ تھی جس میں تعلیم کی ضرورت ہوتی یہ تو فطری چیز ہے فطریات میں کسی کی تعلیم کی کیا ضرورت کیا یہ امر فطری نہیں کہ آدمی جس کام کو آوے صاف کہدے پھر جو جواب ملے اس پر عمل کرے مگر لوگ ایسا نہیں کرتے پھر چاہتے ہیں کہ اس کی اصلاح نہ کی جاوے ـ رعایت کی جاوے حالانکہ اصلاح کر دینا یہی رعایت ہے اور اسی قاعدہ کے موافق میں ہمیشہ آنے والوں کی رعایت کرتا ہوں اور ان کی دینی مصلحت کو کہ اصلاح ہے مقدم رکھتا ہوں اپنی دنیوی مصلحت پر کہ نیک نامی ہےاور اسکے خلاف کو خیانت سمجھتا ہوں کیونکہ اگر میں آنے والوں کی وہ رعایت کروں جس کویہ رعایت سمجھتے ہیں تو پھر تربیت اور اصلاح کی کیا صورت ہے مگر یہ ان کی رعایت تھوڑا ہی ہوگی بلکہ یہ تو میری اپنی رعایت ہوگی کہ کوئی برا نہ مانے بدنام نہ کرے ـ اب یہ اس کو اپنی بدفہمی کی وجہ سے نہ سمجھیں تو میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں میں تو جو کچھ کرتا ہوں آنے والوں کی مصلحت کی وجہ سے کہ ان میں آدمیت پیدا ہو جاوے پھر اس کو اگر یہ اپنا نقصان سمجھیں سمجھا کریں یہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص وقف علی الاولاد کرے تو اس سے اپنی اولاد کو نفع پہچنا مقصود تھا لیکن اگر اس پر کوئی نقصان سمجھے سمجھا کرے باپ کی جوتی سے اور میں تو صاف پکار کر کہتا ہوں کہ اگر میرا یہ طرز کسی کو نا پسند ہو وہ میرے پاس نہ آوے میں کسی کو بلانے کب جاتا ہوں کسی کو سو دفعہ غرض ہو آؤو نہ کہیں اور جاؤ ـ
کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے ـ
در کوئے نامی مارا گزر نہ دادند گر تونمے پسندی تغیر کن قضاء را
اور میں تو ایسے موقع پر یہ پڑھ دیتا ہوں
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی
جس کو ہو جان عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح سے پرانا ڈھیرا چلا آ رہا ہے ویسے ہی یہاں بھی ہو صدیوں کے بعد تو باب تربیت حق تعالی کے فضل سے کھلا ہے ـ یہ نا معقول پھر اس کو بند ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ـ سو میں تو انشاءاللہ تعالی اپنے طرز کو کسی کی خوشی کی وجہ سے بدل نہیں سکتا اور اگر بالفرض ایسا کروں بھی تب بھی کسی نہ کسی کے تو پھر بھی خلاف ہو ہی گا تو اس صورت میں ساری دنیا کو کہاں تک راضی رکھ سکتا ہوں ۔
( ملفوظ 115 )لفظ “” خانقاہ “” کی اصل
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے پتہ پر لکھا ہے خانقاہ امدادیہ مگر صحیح اور اصل لفظ یہی ہے خانقاہ اس کا معرب ہے ـ خانقاہ جہاں پر بہت سے خانے اور حجرے بنے ہوں ـ
( ملفوظ 114 )ذاتی علم کے بغیر تصدیق نہ کرنا چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا معمول ہے کہ بدون اپنے علم کے سنی سنائی باتوں پر کسی کے مضمون کی تصدیق نہیں کرتا اس لئے یہ شہادت ہے اور اس میں شرعا مشاہدہ شرط ہے ـ
( ملفوظ 113 )اھلیہ سے محبت اور اس کی حدود
فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے اس میں لکھا ہے اس میں کہ مجھ کو اپنی اہلیہ سے بیحد محبت ہے اسقدر محبت مزموم تو نہیں میں نے لکھ دیا کہ اس سے زیادہ بھی مزموم نہیں مگر ایک شرط ہے میں نے اس شرط کے متعلق بھی اس سے دریافت کیا ہے کہ اگر کسی موقع پر اس کی رعایت کرنے میں دین کا ضرر ہو تو اس وقت آپ کس کو ترجیح دیں گے دین کو دین کو یا اھلیہ کو اس پر فرمایا کہ نہ معلوم بیچاری بیوی ہی کو کیوں تختہ مشق بنایا جاتا ہے اگر بیوی کے متعلق یہ شبہ ہے کہ وہ غیر اللہ ہے تو یہ خود بھی عین اللہ نہیں غیراللہ ہی ہیں کہ جو محبت اہلیہ سے ہے اگر وہی محبت اپنی ذات سے ہو تو وہاں پر بھی تو یہ ہی شبہ ہونا چاہیئے مگر اس کا کبھی سوال نہیں کیا خیر جو سوال کیا یہ بھی غنیمت ہے اس سے دین کی فکر کا تو پتہ چلا اور فکر دین وہ چیز ہے کہ یہ جب ہوتی ہے تو مصلح کا بھی جی چاہتا ہے کہ یہ بھی بتادو یہ بھی سکھا دو اور اگر طلب اور فکر نہیں تو پھر مرو اور پڑو گڑھے میں ـ
( ملفوظ 112 ) اتباع سے انکار اور خود سری
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کس قدر بد فہمی کی بات ہے کہ اتباع کوئی چیز ہی نہیں رہی یہ چاہتے ہیں کہ حاکم ہمارا اتباع کریں اب یہ ہی سوراج سوراج ہانک رہے ہیں جب یہ حاکم بنیں گے تو ان کے ساتھ بھی یہ ہی برتاؤ ہوگا جو یہ کہہ رہے ہیں تب حقیقت معلوم ہوگی جتنی باتیں کررہے ہیں نہایت ناعاقبت اندیشی کی ہیں بہت بری ذہنیت پیدا ہو گئی ہے یہی حالت حکام باطنی یعنی مشائخ کے ساتھ ہو گئی ہے کہ ان کو اپنا تابع بنانا چاہتے ہیں سو یہ علامت سے ضعیف اعتقاد کی اسی سلسلہ میں ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ شیخ زادہ کی قوم اگر کسی سے معتقد ہو جائیں تو بغالب ظن واقعی بزرگ ہے اس لئے کہ وہ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مولوی ہو جاوے شیخ ہوجاوے ان کا معتقد ہونا بڑا مشکل ہے یہ واقعی بزرگوں کے بھی کم ہی معتقد ہوتے ہیں مزاحا فرمایا کہ یہ خود شیخ زادہ ہیں بلکہ شیخ سے بھی زیادہ ہیں اس لئے کہ بڑی مشکل سے کسی کے معتقد ہوتے ہیں اور اگر ہو جاتے ہیں تو پھر پورے طور سے ہوتے ہیں کیونکہ سمجھ کر ہوتے ہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کتنے بڑے درجے کے ہیں مگر گنگوہ کےلوگ زیادہ معتقد نہ تھے نہ شیخ زادے نہ پیر زادے اور یہ پیر زادوں کی قوم تو ہر جگہ عجیب ہی ہیں چناچہ آجکل کے پیرجیوں نے عجیب عجیب باتیں تراش رکھی ہیں کبھی مرغ حاصل کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ تعویز مرغ کے خون میں لکھا جاتا ہے میں کہا کرتا ہوں کہ ان کو مرغ نہ دے بلکہ ان کے سامنے مرغ ذبح کر کے اور ایک ٹھیکری میں خون دے کر کہہ جاوے کہ یہ ہے مرغ کا خون اس سے تعویز لکھدیجئے مگر شاید وہ یہ کہنے لگیں کہ مرغ کا گوشت کھا کر تعویز لکھا جائے گا تب اثر ہو گا اس کا جواب تو میرے پاس بھی نہیں یہ لوگ اگر یہ ترکیبیں نہ کریں تو بیچارے اور کیا کریں ان کو اور کچھ آتا تو نہیں اس لئے قابل رحم بھی ہیں ـ
( ملفوظ 111 )آنیوالوں کی خدمت کو ذریعہ نجات جاننا
سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو آنے والے حضرات کی خدمت کو اپنا ذریعہ نجات سمجھتا ہوں مگر آنہ والوں پر نظر نہیں مزاحا فرمایا کہ آنہ والوں کو کیا دیکھتا روپیہ والوں کو دیکھتا ہوں یعنی اہل صدق کو ـ
22 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 110 )جوش اور بہادری میں فرق ہے
ایک صاحب سے سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جوش کو بہادری نہیں کہتے ہوش کی حالت میں جو کام قوت و استقلال سے کیا جائے بہادری اس کو کہتے ہیں اور جوش کی کیفیت تو اکثر عورتوں میں بھی ہوتی ہے اکثر واقعات کنوؤں میں ڈوب جانے کے انہیں کے ہوتے ہیں مگر کوئی بھی اسکو بہادری سے تعبیر نہیں کرتا بلکہ بزدلی پر دال ہے تو محض جان کھو دینا بہادری نہیں بہادری اور ہی چیز کو کہتے ہیں آج کل بعض مسلمان بھی اہل باطل کی پیروی میں اپنی فلاح سمجھتے ہیں مگر اہل باطل میں قوت کہاں محض ایک جوش ہوت ہے جو بہت جلد زائل ہو جاتا ہے ـ
( ملفوظ 109 ) حب دنیا کا علاج
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حب دنیا کےعلاج میں یہ مرقبہ نہایت مفید ہے کہ قبر میں اس طرح کفن گل گیا اعضاء منتشر ہو گئے موت سے لوگ گھبراتے ہیں مگر مومن کے لئے موت بڑی مسرت کی چیز ہے یہی وہ پل ہے جس سے گزر کر محبوب تک رسائی ہو گی باقی طبعی تکلیف ایسی ہے جیسے بچے کا آپریشن کیا جاتا ہے وہ اس پر روتا ہے چلاتا ہے مگر مربی خوش ہیں کہ جب اچھا ہو جائے گا اسی کو فرماتے ہیں ـ
طفل میلرزدز نیش احتجام مادر مشفق ازاں غم شاد کام
( ملفوظ 108 ) انسان کی حقیقت
ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان ناز کس بات پر کرے اس کی ہستی اور وجود ہی کیا ہے ایک عالم کی حکایت لکھی ہے کہ میں نے ایک چیز ایسی یاد کی کہ کوئی یاد نہیں کر سکتا اور ایک ایسی چیز بھولا کہ کوئی نہیں بھول سکتا یاد تو یہ کہ قرآن شریف تین دن میں یاد کر لیا ـ اور بھولا یہ کہ داڑھی چار انگلی سے زائد ہو گئی مٹھی میں تھی پکڑ کر جاٹنی چاہی خیال نہ رہا اوپر کی جانب سے کاٹ گیا بالکل صاف ہو گئی حق سبحانہ تعالی انسان کا عجز دکھا دیتے ہیں اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ـ
گر خدا خواہد نگفتند از بطر پس خدا بنمود شان عجز بشر
بندوں کی غلطی ظاہر کر دیتے ہیں تاکہ ان میں دعوی نہ پیدا ہو جائے یہ بھی بڑی رحمت ہے حق تعالٰی بندوں پر ماں باپ سے بھی زیادہ شفیق ہیں چناچہ میں نے ایک روایت دیکھی ہے کہ جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر ٹوٹ پڑوں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں مطلب یہ کہ اسکو فنا کر دیں حق تعالی فرماتے ہیں اگر تم اس کو بناتے اور پھر ایسی درخواست کرتے تب جانتے اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے محبت ہوتی ہے کہیں اختیار کہیں اضطرارا وہاں اضطرار تو ہے نہیں صرف اختیار ہے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا سے جب قوم غرق ہو گئی حکم ہوا مٹی کے برتن بناؤ کئی سال تک برتن بنوائے گئے پھر حکم دیا کہ توڑ دو ـ دیکھنے بھی نہ پائے تھے کہ توڑدیئے ارشاد ہوا کہ کچھ رنج ہوا عرض کیا کہ بہت رنج ہوا ارشاد ہوا دیکھو اپنی بنائی ہوئی چیز سے ایسی محبت ہوتی ہے مگر ہم نے تمھارے کہنے سے اپنی مصنوعات کو ہلاک کر دیا ـ

You must be logged in to post a comment.