(( مقلب بہ الحرص علی الجاہ ) ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا لہ جی ہاں آجکل تو بعض علماء بھی لیڈوں کے ہم خیال بن کر سلطنت کے خواہشمند ہیں اور زیادہ حیرت تو اس پر ہے کہ اس اخواہش میں احکام کی مطلق پرواہ نہیں کرتے – زمانہ تحریکات میں جو کچھ کیاگیا وہ اظہر من الشمس ہے اور احکام کے سامنے سلطنت تو کیا چیز ہے جن جٓکے قلوب میں حق تعالیٰ کی اور اس کے احکام کی محبت پیداہوچکی ہے ان کی نظر میں تمام دنیا کا وجود مچھر کے برابر بھی نہیں ان کے نزدیک تو اسکی بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے چھوٹے چھوٹے بچے مٹی یا ریت کے گھر بنالیتے ہیں اور وہ اس میں سے کسی کا نام دیوان خانہ اور کسی کا بالا خانہ رکھتے ہیں تو عقلاٰٰء ان بچوں پر ہنستے ہوئے گزرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ ہم تم کو حقیقی دیوان خانہ اور بالاخانہ دکھائیں ان کو دیکھو –
اسی طرح خاصان حق اہل اللہ آپ کے ان محلوں اور کوٹھی بنگوں کو دیکھ کر ہمٓنستے ہیں اور آخرت کی تر غیب دیتے ہیں اور تمہاری اس فانی سلطنت کی حقیقت وہ جو ایک بزرگ نے ایک بادشاہ کو بتلائی تھی یعنی بادشاہ دریافت کیا کہ اگر کسی موقع پر آپ جارہے ہوں – اور پانی پاس نہ ہو اور شدت پیاس سے جانپر بن رہی ہو ایسے وقت کوئی شخص ایک کٹورا پانی لے کر آئے اور یہ کہے کہ نصف سلطنت کے بدلے یہ کٹورا پانی کا فروخت کرتا ہوں آپ خرید لیں گے بادشاہ نے کہا ضرور خرید لوں گا پھر ان بزرگ نے کہا کہ اتفاق سے تم پیشاب کا بند لگ جائے اور کوئی علاج مفید نہ ہو اور کوئی شخص یہ کہے کہ اگر بصف سلطنت دو یہ کھول دوں گا کیا کروگے بادشاہ نے کہا کہ نصف سلطنت دیدوں گا ان بزرگوں نے کہ یہ حقیقت ہے تمہارے سلطنت کی کہ آدھی سلطنت کی قیمت ایک کٹورا پانی کا اور آدھی سلطنت کی قیمت ایک کٹورا پیشاب کا بس یہ ہے وہ سلطنت جس کے لئے آجکل عقلاء ان کے ہم خیال بعض مولوی سرگردان اور پر یشان حال ہیں اور آخرت کو بھی گئے ہیں سلطنت حاصل کرنے کو یا ترقی کرنے کو منع کرتا خوب ترقی کرو خوب سلطنت اور حکومت کرو میں خود ترقی کو پسند کرتا ہوں مگر اس میں کچھ شرط بھی تو ہے وہ یہ کہ احکام شریعت کو محفوظ کرتے ہوئے حدود اسلام پر نظر رکھتے ہوئے حاصل کرو البتہ اس کے عکس کے خلاف ہوں کیونکہ ایسی حکومت مسلمانوں کے کام نہیں ہوسکتی جس میں پہلے احکام شرعیہ کو پامال کردیا جائے سو ایسی سلطنت باعث ترقی نہیں ہوسکتی بلکہ باعث نحوست ہوگی کو مقاصد سے اختلاف نہیں طریق کار سے اختلاف ہے میں یوں کہتا ہوں کہ سلطنت ہو یا حکومت مال ہو یا جاہ عزت ہو یا آبرو اگر تم خدا کے احکام کی حفاظت کرتے ہوئے ان پر کار بند رہتے ہوئے حاصل کر سکو تو تم ہزار بار مبارک اس لئے کہ اس صورت میں یہ چیزیں احکام اسلام کی اشاعت کا ذریعہ ہوں گی اور اگر اس کے ساتھ اغراض فاسدہ وابستہ ہیں جیسا آجکل کے واقعات سے بالکل ظاہر ہے تو ایسی سلطنت اور حکومت پر لعنت ہزار بار لعنت ایسی چیز مبغوض ہے منحوس ہے مردود ہے جو خدا کی یاد سے غافل کردے یا احکام سے دور کردے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی سلطنت کو پیش کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس ساتھ ہی وہ حضرات احکام اسلام پر کس طرح عاشق تھے اور کس سختی سے ان کے پابند تھے عین قتال کے وقت جوش کی حالت میں بھے احکام میں بھی احکام کا ہوش رکھتے تھے مثلا یہ مسئلہ ہے کہ اگر عین قتال کے وقت اس حالت میں کلمہ پڑھ لے تو فورا ہاتھ روک لو کیا اب کوئی ایسا کرسکتا ہے ـ رات دن کے معمولات اور معاملات میں تو حدود اور احکام کی پابندی کی ہی نہیں جاتی ایسے سخت وقت میں تو بھلا کون عایت کرسکتا ہے غرض ہر چیز کے کچھ حدود ہیں قواعد ہیں پہلے طبیعتوں کو ان کا خود گر بناؤ میدان میں آو میں تقسیم عرض ہوں
کہ پھر نصرت خداوندی تمہارے ساتھ ہوگی اور پھر تم
سلف کی طرح تمام پر حکومت کروگے اور بدون
احکام کی پابندی کے اختیار کئے ہوئے حکومت یا سلطنت کا حاصل کرنا ایسا ہے جیسے بلا وضو کے نماز کے پڑھنا یا بدون منتر جانے سانپ پکڑنا جس کا انجام ہلاکت ہے اور اگر بالفرض چندے یہاں حکومت کر بھی لی تو آخرت کی زندگی تو برباد ہوجایئیگی اصل چیز تو وہی ہے جس کہ لئے انبییاء علیہم السلام ہوئی اور وہ ایمان اوع اعمال صاحلہ ہیں ایمان کی حفاظت کرو اور اعمال صالحہ اختیار کرو پھر اس پر خوشخبری بشارت ہے جس کو حق تعالیٰ فرماتے ہیں –
ان الا رض یرثھا عبای الصالحون
( اس زمین کے مالک میری نیک بندے ہوں گے )
یہ بیان تو ان کے لئے تھا جو جاہ کے لئے حکومت اور سلطنت کے خواہاں اور جویاں ہیں باقی اہل اللہ اور خاصان حق جن کو تم تحقیر سے دیکھتے ہو کہ وہ خستہ حالت میں ہیں میلے کچیلے ہیں بے سروسامانی ان کی رفیق ہے وہ ان چیزوں کی پر واہ نہیں کرتے گو بضرورت سلطنت بھی حاصل کرلیں اور اس میں بھی کوشش کریں کہ اپنے کو اس سے علیحدہ رکھ کر دوسرے کے سپرد کردیں اور بادل ناخواستہ ان کے ذمہ پڑجاوے تو پھر اس کے پورے حقوق ادا کریں – میں بقسم عرض کرتا ہوں یہی حضرات کچھ ساتھ لیجانیوالے ہیں تم نے جن سامان کو قبلہ وکعبہ بنا رکھا ہے وہ تم ہی کو مبارک ہوں وہ تو ان سامانوں کو حجاب اور وبال جان خیال کرتے – حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب باہان ارمنی کے دربان میں اپنے اسیروں کو چھڑانے کے لئے تشریف لیگئے تو آپ نے دربار کا فرش دیباراور حریر کا اٹھا کر پھینک دیا اس کے سوال پر جواب میں فرمایا کہ تیرے فرش سے ہمارے اللہ کا فرش افضل ہے حضرت بشر حانی رحمتہ اللہ علیہ کا قصہ مشہوت ہے جب آپ نے یہ آیت قران پاک کی “” سنی والارض فرشنھا “” ( اور ہم نے زمین کو فرش بنایا ہے ) اسی وقت اپنے پاؤں سے جوتے نکال کر پھینک دیئے کہ خدا کے فرش پر جوتے پہن کر چلنا خلاف ادب ہے ؛ (یہ غلبہ ہے حال کاجو خوبی ہے مگر حجت نہیں ) اب سنیئے کہ تمام چرند پرند کو حکم ہوگیا جس جس طرف بشر حانی کا گزر ہو کوئی بیٹ نہ کرنے پاویں – غرض ہماری عزت اس ظاہری سامان سے تھوڑا ہی ہے ـ اگر عزت ہے تو بےسروسامان ہی میں ہے جو عیدت سے مسبب ہوا اسی کو فرناتے ہیں –
زیر بار نددر ختاں کہ ثمر ہادار ند اے خوشاسرو کہ بند از بند غم آزاد آمد
دلفر یباںنہاتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خداداد آمد
( پھل دار درخت زیر باد رہتے ہیں مبارک ہو سرو کہ وہ تمام غموں سے آزاد حسینان جہاں کو بناؤ سنگھار کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے محبوب کو حس خداد حاصل )
حضرت غوث پاک رحمتہ علیہ کی خدمت میں بادشاہ سنجر نے ایک مرتبہ لکھ کر بھیجا کہ معلوم ہوا ہے کہ حضرت کیخدمت میں اکثر مجمع خدام کا رہتا ہے اگر اجازت ہو تو ایک حصہ ملک کا خدام کے لئے حضرت کی خدمت میں پیش کردوں حضرت نے جواب میں لکھ بھیجا –
چوں چتر سنجرے رخ سیاہ باد دردل اگر بود ہوس ملک سنجرم
زانگہ کہ یافتم خبر از ملک نیم شب من ملک روز بیک جو نمی خرم
( اگر میرے دل میں ملک سنجر کی ہوس ہوتو جس طرح سنجر کا چتر سیاہ ہے میرا نصیب بھی سیاہ ہو – اور جس وقت سے ملک نیم شب ( یعنی عبادت نیم شبی ) کی مجھے خبر ہوئی ہے میں تو ملک روز کو ایک جو کے بدلے میں بھی نہ خریدوں )
ایک بزرگ کو کسی بادشاہ نے لکھا تھا کہ ہم مرغ کھاتے ہیں اور تم خشک روتی ہم دیبا اور حریر پہنتے ہیں اور تم گرڑھی اوڑھتے ہو تم مصیبت میں اور تکلیف میں ہو تم ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تہماری خدمت کریں گے اور یہاں پر تم کو کوئی تکلیف نہ ہوگی ان بزرگ نے جواب میں لکھا کہ
خوردن تو مرغ مسمی دمے طعمہ مانانک جویں ما
پوشش تو اطلس دو یبا حریر بخسیہ زدہ خرقہ پشمین ما
( تیری غزا بھنا ہوا —– مرغ اور شراب ہے ہماری خزاجوکی روٹی تیرا لباس اطلس اور دیبا اور ریشم ہے – اور ہمارا لباس ہماری پیوند زدہ گدڑی ہ )
اور آخر میں فرماتے ہیں
نیک ہمیں است کہ می مگزرد راحت تو محنت دو شیں ما
باش کہ تاطبل قیامت زنند آن تو نیک آیدہ ویاایں ما
عنقریب یہ سب چیزیں گزر جاویں گی تیری راحت بھی اور ہماری تکلیف بھی ذرا انتظار کرو کہ قیامت کا طبل بجاویں پھر دیکھنا ہے کہ تیری حالات درست ہوں یا ہمارے )
مطلب یہ ہے کہ اس روز معلوم ہوگا کہ یہ حالت اچھی تھی یا وہ اور صل بات تو یہ ہے کہ ان بادشاہوں کی یہی رائے ان بزرگوں کو تکیف میں سمجھتے تھے غلط تھی – ان حضرات کے قلوب میں ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ وہ سبب سے مستغنی کردیتی –
( ملفوظ15 )حکایت مولوی شاہ سلامت اللہ کان پوری
ایک سلسلہ میں گفتگو میں فرمایا کہ انگریزئ کی بدولت آدمیت بھی جاتی رہی حوانیت کا غلبہ ہورہا ہے اور دین بھی بالکل برباد ہوجاتا ہے جن کو اسکا احساس ہوگیا ہے وہ بچ بھی سکتے ہیں چنانچہ ایک شخص نے اپنے لڑکے کو انگریزی تعلیم پڑھانی چاہی اور اور وہ لڑکا پڑھنا نہیں چاہتا تھا اس لڑکے نے مجھ سے کہا میں نے تدبیر بتائی تم فیل ہوجایا کرو وہ دو مرتبہ فیل ہوگیا باپ نے کہا نالائق ہے جا عربی پڑھ ، ملا بن بس پیچھا چھوٹ گیا ـ اعتنٓبار ہوگا ایسے خواب پر ایک حکایت یاد آئی کہ ایک شخص رار کو چار پائی پر پیشاب کرتا تھا بیوی نے کہا تو بڈھا خرانٹ ہو ہو کرچار پائی پر موتتا ہے اس نے کہا کہ شیطان خواب میں کلے جاتا ہے اور کسی جگہ بٹھلا کر کہتا ہے کہ پیشاب کر لے سو وہ ایسا کراتا ہے میاں بیوی مفلس بھی تھے بیوی نے کہا جب شیطان سے تیری دوستی ہے ہو جنوں کا بادشاہ ہے اس سے مال کیوں نہیں مانگتا اس نے کہا آج کہوں گا خرض رات کو بدستور شیطان خواب میں آیا اس نے کہا کہ خالی پھیکھے لیجاتے ہو تم کو یہ خبر نہیں کہ ہم غریب ہیں تو کہیں سے مال دلواؤ تم خزانوں کی خبر ہے شیطان نے کہا کہ پہلے سے تم نے کہا کیوں نہیں چلو میرے ساتھ جس قدر روپیہ کی ضرورت ہولے لو یہ ساتھ ہولیا ایک ایک خزانہ پے لیجا کر کھڑا کیا اور وہاں سے ایک بڑا بھاری روپیہ کا توڑا کندھے پر رکھوا دیا اس میں وزن تھا زیادہ بوجھ کی وجہ سیے پیشاب تو کیا پاخانہ نلکل گیا آنکھ کھلی تو دیکھا کہ نہ خزانہ ہے نہ روپیہ صرف پاخانہ ہے خواب میں تو خزانہ تھا ـ اور بیداری میں پاخانہ ہو گیا ـ اسی طرح جب اس عالم دنیا سے عالم آخرت کی طرف جاؤ گے اور وہاں آنکھ کھلے گی تب معلوم ہو گا وہاں جو خزانہ تھا یہاں پاخانہ ہے پھر اس کی ساتھ ہی یہ حالت کہ بیک بینی دو گوش تن تنہا ـ نہ کوئ یار نہ مددگار یہ تو یہاں کے متاع کی حقیقت نظر آویگی ـ اور جب وہاں کے درجات اور نعماء دیکھو گے تو وہی کہو گے جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر نیا میں ہماری کھال قینچیوں سے کاٹی جاتی اور ہم کو یہ درجہ ملتا تو کیا خوب ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی تحمت ہے کہ وہ اپنے اکثر بنوں کو دونو ں کی جگہ راحت دیتے ہیں اگر کسی کو تکیف بھی ہوتی ہے تو وہ محض جسمانی تکلیف ہوتی ہے اور ان کی یاد کرنے والوں کو اس میں روحانی پر یشانی نہیں ہوتی –
(ملفوظ 14 )فطری بات بتلانے کی ضرورت نہیں
ایک لڑکے نے آکر تعویز مانگا اور یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویز حضرت ذالا نے فرمایا کہ ابھی سے بد تمیز کی باتیں سیکھنا شروع کردو اس وقت کے بگڑ ہوئے ساری عمر بھی سیدھے نہ ہوگے ایک صاحب نے عرض کیا معلوم ہوتا کہ گھر والوں نے تعلیم نہیں دی فرمایا کہ بالکل غلط فرمایا گھر والے ضرور کہتے ہیں کہ فلاں چیز کا تعویز لے آو اس سے زیادہ بتلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیدھی بات ہے اور سیدھی ہی بات فطری ہوتی ہے اس کے بتلانے کی کیا ضرورت ٹیڑھی بات سکھلانے کی ہوتی ہے آج کل اگر تعلیم کرتے ہیں تو الٹی بات کی چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے ـ ایک شخص مکان سے تعویز لینے چلا اور یہ بھی اس کے زہن میں ہے کہ فلاں چیز کے لئے تعویز کی ضرورت ہے اور فطرت مقتظا ہے وہ آتے ہی خود سب کہ دیتا مگر اب اس کو یہ سکھلایا جاتا ہے کہ جب تک نہ پوچھیں بولنا مت تو یہ بد تمیزیاں البتہ سکھلائی جاتی رہی سیدھی بات ـ وہ اصلی چیز ہے اس میں تعلیم کی کون سی ضرورت ہے غیر اصلی چیز میں تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے حضرت والانے اس لڑکے سے فرمایا کہ تم نے اس وقت بد تمیزی کی جس سے سخت طبیعت پرشان ہوئی اس لئے آدھ گنٹھ کے بعد آؤ آکر پوری بات کہو اس میں تعلیم بھی ہے اور دوسرے کی پرشانی بھی کم ہوجاویگی تب تعویز ملیگا اور اگر پوری بات نہ کہو گے پھر بھی تعوہیز نہ ملے گا اس وقت وہ لڑکا چلا گیا اور آدھ گنٹھ کے بعد آکر پوری بات کہی تعویز ٓدیدیاگیا
( ملفوظ 13 )تقویٰ سے نور فہم پیدا ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علم کے ساتھ تقویٰ کی سخت ضرورت ہے تقویٰ سے نو فہم پیدا ہوتا ہے جو غیر متقی کو نصیب نہیں ہوتا دیکھئے کہ حضرت صحابہ میں اکثر وہ حضرات تھے جو نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا مگر بڑے بڑے شاہان دنیا سے جب مخاطب کا اتفاق ہوا وہ تو ان کی گفتگو سن کر دنگ رہ جاتے یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں اسلام کے قبل بھی ایک استعداد خاص پیدا کردی تھی مگر ظہور تو اس کا اتباع اور تقویٰ ہی کی بدولت ہوا – اس استعداد پر ایک قصہ یاد آیا کہ حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک واقعہ بیان فرماتے تھے کہ دو چچا زاد بھائی سفر میں چلے آپس میں کوئی نزاع پیش آیا ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کردیا قاتل کا چچا مقتول کا باپ تھا لوگ قاتل کو پکڑ کر اس کے پاس لائے اور واقعہ بیان کیا غائت وقار سے اس شخص کی نشست کی ہیئت تک نہیں بدلی اور بیساختہ کہا کہ میری دوہاتھ تھے ایک ہاتھ نے ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالا تو کیا اس ہاتھ کو میں کاٹ ڈالوں مگر مقتول کی ماں کو صبر نہ آویگا اس لئے سو اونٹ ہمارے اصطبل سے کھول کر مقتول کی ماں کو دیتے – ایک حبط اس انگریزی داں طبقہ میں اکثر یہ ہو جاتا ہے کہ پڑھتے تو ہیں اور دخل دیتے ہیں دین میں باقی اللہ کے بندے بعضے ایسے بھی ہیں جو اس کا احساس بہی رکھتے ہیں اور اپنی غلطی کا اقرار بھی کر لیتے ہیںـ چناچہ ایک مرتبہ مولوی شاہ سلامت اللہ صاحب کا نپوری وعظ بیان کیا وعظ میں ایک صدر اعلی صاحب بھی شریک تھے کسی شخص نے شاہ صاحب سے مسلئہ پوچھا شاہ صاحب نے مسلئہ کا جواب دیدیا ایک شخص نے کہا کہ صدر اعلی صاحب اس طرح بتلاتے ہیں مولوی صاحب نے بید ہڑک کہا کہ صدراعلی گوہ کھاتے ہیں اب ان تہذیب اور اہلیت دیکھئےـ کھڑے ہو کر کہا کہ مولانا واقعی سود کی ڈگری دینے والے کو یہ منصب نہیں کہ دین میں دخل دے اور میں توبہ کرتا ہوں انشا اللہ آئندہ ایسا کبھی نہ ہو گا اوریہ تمام شغف انگریزی سے صرف دینوی عزت کے لئے ہے سو خود عزت دینوی ہی کوئ چیز نہیں اصل عزت آخرت کی ہے حتی کہ اگر ساری دنیا کسی کو حقیر سمجھے چاروں طرف سے اس کو دھولیں تھپڑیں لگیں ذلت ہو رسوائ ہو تب بھی کوئ چیز نہیں اگر خدا کے نزدیک پیارا اور محبوب ہوـ حضرت ابرا ھیم ابن ادھم بلخی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ جہاز میں سفر کر رہے تھے اس جہاز میں ایک ریئس بھی سوار تھا اس کو تفریح کی ضرورت ہوئ چند مسخرے ہمراہ تھے اب تلاش ہوئ کہ ایسا شخص ملے جس کو تختحہ مشق بنایا جاۓ تو تفریح مکمل ہو سو ایسی حقیر اور پست حالت میں حضرت ابراھیم ابن ادہم بلخی رحمتہ اللہ علیہ ملے انہوں نے ان ہی کو اپنے مزاق کا تختہ مشق بنایا یہ کوچھ نہیں بولے جب دیر ہو گئ تو غیرت خدا وندی جوش میں آئ الہام ہوا کہ اے ابراھیم اگر کہو تو ان سب کو ڈبو دوں عرض کیا کہ اے للہ ان کی آنکھیں نہیں یہ مجھ کو پہچانتے نہیں جیسے آپ میری بدعا ان کے حق میں قبول فرماسکتے ہی میری دعا ان کے حق میں قبول فرمالیجئے میں دعا کرتا ہو ں کہ ان کو صاحب بصیرت بنا دیجئے تاکہ مجھ کو پہچان سکیں حضرت ابراہیم کی دعا قبول ہوگئی اور سب کے سب صاحب بصیرت ہوگئے قدموں میں جا پڑے صاحب نسبت ہو گئے ـ ان کے نزدیک حضرت ابراہیم صاحب ذلت تھے اور اللہ کے نزدیک صاحب عزت تھے یہ کتنی بڑی عزت ہے کہ مالک دو جہاں مشورہ کریں کہ اگر کہو تو سب کو ڈبودوں بس عزت یہ ہے باقی یہاں کی عزت سو اسکی کیفیت تو خواب کی سی ہے اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ مجھ کو پکڑ کر حاکم کے سامنے لے گئے اور مجھ کو سزا کا حکم ملاذلت کے تمام اسباب جمع ہیں مگر جب آنکھ کھلی تو کچھ بھی نہیں یا یہ دیکھے کہ میں ہفت اقلیم کا بادشاہ ہوگیا اور چشم خدم ساتھ ہیں عزت کے تمام اسباب جمع ہیں مگر جب آنکھ کھلی تو کچھ بھی نہیں تو کیا ان دو خوابوآں کا کچھ میں دید واس تحمل کی کیا حد ہے اور واقعی اہل عرب میں کوئی بات تو تھی جب تو جنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں بھیجا ان کے جذبات بڑے اچھے تھے بس قوت کے فعل میں آنے کی ضرورت حضور پر ایمان لاتے ہی تمام کمالات اہل پڑے ـ
2ذیقعدہ1350 ہجری مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 12 )چور طالب علمی کرتے ہیں طالب علم چوری نہیں کرتے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل علم کو عوام کے تابع نہ ہوجانا چایئے اس میں علاوہ ان کی ذات کے دین کا بھئ ضررہے مجہ کو ہمیشہ اس کا خیال رہتا ہے کہ اہل علم کی اور علم دین کی دنیاداروں کی نظر میں تحقیر نہ ہویہی وجہ ہے کہ میں سبکی طرف سے فرض کفایہ اداکرتا رہتا ہوں جس کی وجہ سے آئے دن لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اہل علم اور اہل دین کی حقارت گوارا نہ ہونے پر ایک لطیف واقعہ یاد آیا جب میں کانپور میں مدرسہ جامع العوم میں تھا ایک طالب علم نے ایک طالب علم کی کتاب اور کچہ اسباب دق کرنے کواپنے حجرہ میں لے جاکر چھپالیا ـ مالک سامان نے اس کی اطلاع ٌپولیس میں کردی داروغہ تحقیقات کے لئے آگیا اور اس کے متعلق گفتگو ہوتی رہی داروغہ مجہ سے کہنے لگا کہ افسوس ہے کہ طالب علم بھی چوری کرتے ہیں ـ
میں نے کہا کہ طالب علم کبھی چوری نہیں کر سکتا کہنے لگے کہ مشاہدات کی تکزیب ہے دیکئے یہی ایک واقعہ ہوگیا میں نے کہا کہ اس سے ثابت نہیں ہوا کہ طالب علم نے چوری کی بلکہ کبھی چور طالب علمی کرنے لگتے ہیں چور یہ سمجھتے ہیں کہ اس روپ میں مدرسہ کے اندر چوری سہولت سے ہوسکتی ہے داروغہ جی نے ھنس کر کہا کہ صاحب مولیوں سے اللہ بچائے جدھر کو چائے بات پھیردیں تو اس واقعہ میں بھی طالب علم کی تحقیر نہیں ہونے دی اور ہمیشہ اسی کو جی چاہتا ہے اہل علم کی تحقیر نہ ہو کیو نکہ اگر عوام اہل علم سے بدگمان ہوجائیں تو اندیشہ ہے گمراہی کا ـ
(ملفوظ 11 )خلوص سے معمولی الفاظ پیارے معلوم ہوتے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بڑے بڑے القاب اور چکنے چیڑے الفاظ میں کیا رکھا ہے خلوص اور محبت ہو تو معمولی الفاظ بھی پیارے ہوجاتے ہیں دیکھ لیجئے اللہ تعالیٰ کا نام صرف سب لیتے ہیں کوئی بھی مخدومنامکر منا نہیں کہتا مکہ معظمہ میں شریف حسین تھے کہ ایک معمولی بدوی آکر اس طرح ہکارتا یا حسین یا حسین اور وہ نہایت خندہ پیشانی سے خوش خوش گفتگو کرتے تھے اگر یہ سادگی محبت سے ہوتو کیا مضائقہ ہے بلکہ اچھا معلوم ہوتا ہے ـ ایک بڑی بی تھیں میری سر پر ہاتھ پھیرا کر دعا دیا کرتی تھیں کہ بچے تو جیتا رہ تیری عمر بڑی ہو چونکہ محبت تھی اور سادگی سے ایسا برتاؤ کرتی تھیں ان کی یہ ساری باتیں پیاری معلوم ہوتی تھیں ایک بار گھر میں سے کہا برادری میں ایک یہ ہی بڑی رہ گئی ہیں جو تم کو پیار کر سکتی ہیں ـ میر ٹھ میں حافظ عبدالکریم رئیس تھے ان کی عادت تھی اکثر بیٹا بیٹا کہاکرتے تھے ایک چمار آیا عمر کا آدمی تھا اس کو بھی بیٹا کہا اس چمار نے کہا کہ تمہارے باپ کی برابر تو میری عمر اور مجھ کو بیٹا کھتے ہو حافظ صاحب بہت متواضع تھے برا نہیں مانا غرض حافظ صاحب محبت سے ایسا کہتے تھے کوئی بھی برا نہ مانتا تھا اصل چیز محبت ہے تعظیم میں کیا رکھا ہے بلکہ زیادہ تعظیم ورٓتکریم تو ایک قسم لے حجاب ہیں یہ محبت کی سادگی تو ہم نے اپنے بزرگوں میں دیکھی بالکل اپنے کومٹائے ہوئے تھے پھر تکلف کہاں رہتا حضرت مولانا قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے والد شیخ اسد علی حقہ بہت پیتے تھے جب ضرورت ہوتی فرماتے کی بیٹا قاسم حقہ بھردے مولانا یہ حالت تھی کہ فورا حکم کی تعمیل فرماتے باوجود اس کے کہ مرید اور شاگرد سب موجود مگر کچھ پرواہ نہیں اگر کوئی کہتا بھی تو فرماتے کہ یہ تمھاراکام نہیں یہ میرا کام ہے ـ اللہ اکبر کیا ٹھکانا ہے اس انکسار اور فنا کا بالکل ہی اپنے مٹادیا تھا ـ مولوی معین الدین صاحب کہتے تھے کہ ایک ولا ئیتی درویش آئے بڑے غصہ میں بھر ہوئے نماز پڑھ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوگئے جب لوگ نماز پڑھ کر نکلنے لگے مولانا کے والد بھی آئے انکا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ تم مولانا سے حقہ بھرواتا ہے آخر باپ تھے کہا کہ جی ہاں بھرواتا ہوں ان درویش نے کہا کہ کبھی باپ ہونکے بھروسہ رہو تم جس وقت مولانا حقہ بھرنے کو کھتے ہو حاملان عرش کانپ اٹھتے ہیں اگر تم نے عنقریب توبہ نہ کی تو کوئی وہاں نازل ہوگا پھر انھوںنے ایسی فرمائیش نہیں کی دوسراواقعہ حضرت مولانا ہی کا ہے جلال آباد کے ایک اخانصاحب حضرت کے مہمان ہوئے آدھی رات کو پلنگ پر پڑی ہوئے کروٹیں بدل رہے تھے مولانا بڑے ذہین تھے سمجھ گے کہ غالبا حقے کے عادی ہیں مولانا اسی وقت محلہ سے حقہ مانگ کرلائے اور بھر کر چار پائی کے برابرمیں لا کر رکھ کر فرمایا کہ میںپیتا نیہں لئے بھرنا نہیں آتا دیکھ لیجئے کسی چیز کی کمی پیشی ہوتو ٹھیک کردوں خان صاحب بیچارے پلنگ سے اتر کر الگ ہوگئے بڑی عزر معزرت کی فرمایا کہ تم مہمان ہو تمہارا حق ہے اس میں شرمندگی اور محجوب ہونیکی کونسی بات ہے ان خان صاحب کے ساتھ ایک بازاری عورت تھی بے نکاحی اور یہ پہلے سے علماء کے معتقد نہ تھے یہ کہا کرتے تھے کہ سب کو دیکھ لیا ہے صبح ہی کو حضرت مولانا مرید ہوگئے اور اس عورت کو بھی مرید کروایا اور نکاح پڑھوایا تو حضرت مولانا اس قدر منکسر المزاج تھے ۤـ کہ اپنے مہمانوں تک کا حقہ بھرتے تھے بھلا باپ کا حقہ بھرنا تو کیسے چھوڑ سکتے تھے اور سچ تو یہ کہ بڑا بننے میں کیا رکھا ہے بلکہ بعد تجربہ دین کے لئے تومضر ہے ہیَِ ، یہ بڑا بننا دنیا میں بھی مصائب کا نشانہ بناتا ہے مولانا فرماتے ہیں ـ
خشمہا ؤچشمہا در شکہا، بر سرت ریز وچوآپ ازمتکہا
(اگر بڑا بنوگے تو لوگوں کے غصے اور نگاہیں اور رشک وحسد تجھ پر ایسا پڑیں گے جیسے مشک سے پانی گرتا ہے ـ 12 )
غرض ضرورت محبت اور خلوص کی بڑئی کی ضرورت نہیں ایک مرتبہ ایک گاؤں کا شخص مجھ سے بیعت تھا اکثر میرے پاس آیا کرتا تھا ایک دن کہنے لگا کہ ہمارے گاؤں میں ایک فقیر آیا کرتا ہے اگر کہو تو اس کا طالب ہوجاؤں(یہ ایک صطلاح ہے گاؤں والوں کی مرید کے بعد ایک درجہ نکالا ہے طالب کا ) میں نے اسکو غصہ کے لہجئے میں ڈانٹا اس لئے کہ وہ فقیر شریعت کا پابند نہ تھا – ایک عرصہ کے بعد میں نے اس شخص سے مزاحا پوچھا کہ اب بھی کسی کا طالب بنے گا محبت بھرے لہجے میں سادگی سے کہتا ہے کہ بس اب تو تیراہی پلہ ( دامن ) پکڑ لیا مجھے اس وقت اسکا یہ کہنا بہت ہی پیارا معلوم ہوا اوریہ الفاظ کئی مرتبہ اس کی زبان سے کہلوائے ہر مرتبہ ایک نیا لطف آیا ـ محبت میں کیسے ہی الفاظ ہوں پیاری معلوم ہوتے ہیں اور اس پر ملامت بھی نہیں ہوسکتی اس کو مولانا رومی رحتہ اللہ علیہ فرماتے ـ
گفتگو عاشقاں در کار رب جو شش عشقست نے ترک ادب
بے ادب تر نیست زوکس درجہاں باادب تر نیست زوکس درنہاں
حق تعالیٰ کے بارہ میں عاشقان حق کی باتیں بے ادبی کیوجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ جوش محبت کی وجہ سے ہوتی ہیں ظاہر میں تو اس سے زیا دہ کوئی بے ادبے معلوم نہیں ہوتا اور باطن میں اس سے زیادہ باادب کوئی نہیں ہوتا ـ 12)
(ملفوظ 10 )تفسیر سے لکھنے سے بنفع آجلہ اور عاجلہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک انگریز جنٹ نے جو نہایت اشتیاق سے مجھ سے ملا تھا مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے قران شریف کی تفسیر لکھی ہے میں نے کہا کہ لکھی ہے کہنے لگا کہ آپ کو کتنا روپیہ ملا ہے نیں کہا کہ ایک پیسہ بھی نیہں کہنے لگا پھر تم کو کیا فائدہ ہوا میں کہا کہ ہمارے مزہب نے تعلیم دی ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے وہاں اس کا فائدہ ہوگا ـ آجلہ (آئندہ کا ) فائدہ تو یہ ہے اور عاجلہ (موجودہ ) فائدہ یہ ہے کہ شایقین اس کو پڑھتے ہیں مجھ کو دیکھ کر مسرت ہوتی ہے آگے کچہ بولا یہ لوگ ذہین نہیں ہوتے اس لئے جلد گفتگو کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ـ
(ملفوظ 9 )برق کی دو قسمیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرما یا کہ ایک مرتبہ نواب وقار الملک مجھ کو علی گڈھ کالج وہاں بیان ہوا میں بیان کے وقت سے پہلے ہی کالج میں پہنچ گیا تھا وہاں کے ارکان نے بعض مقامات کیس سیر بھی کرائی منجملہ سب کے ایک کمراہ تھا جس میں بجلی تھی اس کا بھی معائنہ کیا جب بیان شروع ہوا تو دوران تقریر میں بجلی بھی کچھ تحقیق تھی اس باب میں جوحدیث آئی وہ بھی بیان کی گئی ـ پھر میں نے کھا شاید آپ لوگوں کو یہ شبہ ہو کہ برق کی حقیتق جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اس پر شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ تو مشاہدہ کے خلاف ہے ہم نے خود برق بنالی ہے اس کی حقیتق تو ہ نیہں میں نے جواب میں کہا کہ ممکن ہے برق کی دوقسمیں ہوں ایک سماوی اورایک ارضی تو جس کی حقیقت حضور صلی اللہ وعلیہ وسلم نے بیان کی وہ برق سماوی ہے اور جس برق کا آپ کو مشاہدہ ہواہے وہ ارضی ہے سو اگر دونوں کی حقیقت مختلف ہو تو اس میں تعارض کیا ہوا چونکہ ایسا قریب الفہم جواب انہوں نے کبھی سنا نہ تھا ان لوگوں پر بیحد اثر تھا تمام وعظ سن لینے کے بعد کہا کہ ہم کو ایسے وعظ کی ضرورت ہے اور اسی طریق سے ہمارئ اصلاح کی ضرورت ہے اصلاح بھی ہوجاوے اور ہم کو ناگوار بھی نہ اور عام واعظین میں بعض تو ہم پر کفر کے فتوے دیتے ہیں جس سے ہم کو وحشت ہوتی ہے اور بعض ہماری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں جس سے بجائے اصلاح کے ہمارا مرض بڑھتا ہے طلبہ کی خواہش تھی کہ کالج میں آتا رہے تاکہ ہماری ا صلاح ہو مگر کالج کے حامی ڈرگئے اگر ایک دو دفعہ اور آگیا تو تمام کالج ہی کی کا یا پلٹ ہوجائے گی پھر نہیں جانا ہواـ
(ملفوظ 7) رضاعی رشتہ بالکل حرام ہے
فرمایا کہ آج ایک رجسڑی آئی ہے اس میں ایک استفتاء آیا لکھا ہے کہ یہ
رضاعی رشتہ ہے اس کو ایک پیر نے جائز کردیا ہے خدا معلوم لوگ ایسے جاہلوں سے مسائل پوچھتے ہی کیوں ہیں باوجود اس کے آج کل علم کازمانہ ہے کثرت سے علماء ہیں مگر پھر بھی جاہلوں سے مسائل پوچھتے ہیں سمجھتے ہیں جب پیر ہوگئے تو سب کچھ ہوگے سر بھی ہوگے اور پیر بھی ہوگے فرمایا میں نے جواب لکھ دیا حرام بالکل باطل ہے اور یہ قول کہ مرضعہ کا دودھ ہندہ کی پیدائیش کے زمانہ کا نہ تھا اس لئے زید و ہندہ رضاعی بھائی بھن نہیں ہوئے بالکل ظلط بالکل باطل ہے ـزید کو چایہئے فورا ہندہ کو جدا کردے اور ان سب کو توبہ کرنی چایئے مع پیر صاحب سے ادب کے ساتھ کہنا چایئے کہ پیر ہی رہیں مولوی نہ بنیں اور فتوے نہ دیا کریں ان کمبختوںنے لوگوں کے دین کا ناس کردیا خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ بناتے یہاں اس نواح میں تو بفضلہ تعالیٰ ان گمر ہیوں کا پتہ چلتا نہیں اپنے بزرگوں کا اثر ہے یہاں سےادھر ادھر جاکر دیکھے کیا خرافات برپا ہے ایک مرتبہ مبمئی میں وعظ کا اتفاق ہوا مجھ کو بڑا تردد ہوا کہ کیا بیان کروں اگر مسائل مسائل اختلافیہ بیان کرتا ہوں تو وحشت ہوگی متفق علیہ بیان کروں تو ان کو سب جا نتے ہیں یعنی نماز روزہ وغیرہ تو ضرورت کا بیان کونسا کیاجاوے پھر سوچکر میں نے آیت وضرب اللہ مثلا قریتۃ کانت امتہ مطمنۃ الخ
( اور اللہ تعالی ایک بستی والوں کی حالت عجیب بیان فرماتے ہیں کہ وا امن واطمینان میں تھے )
پڑ بکر اس کا بیان کیا کہ اللہ نے آپ کو بہت نعمتیں دی ہیں مگر آپ ان کا شکر ادا نہیں
کرتے یہ بیان کبھی ان کے بڑوں نے بھی نہ سنا ہوگا اس کو میں نے بھت اچھی طرح ثابت کیا میں نے بیان کرنے میں ایک شرط یہ بھی لگائی تھی کی عوام الناس کا وعظ میں اجتماع نہ ہو ہاں جو عمائد اور خوش فھم ہوں ان کو بلایا جاوے اس لئے کہ بڑے درجہ کے لوگ خواہ وہ دوسرے ہی مزہب کے ہوں عالی حوصلہ ہوتے ہیں اگر ان کے خلاف بھی بیان کیا جاوے وہ ناگواری کا اثر نہیں لیتے اور عوام الناس جاہل اکثر مفسد ہوتے ہیں خوص بمبئی کے عوام الناس تو نہایت ہی مفدس ہیں اہسئ جہگوں میں بیان کر کے دل خوش نہیں ہوتا اگر سامعین خالی الزہن ہوں نہ اعتقاد ہو نہ عناد ہو تو بھی مضائقہ نہیں مگر وہاں تو کثرت سے معاندین ہیںۤ ۤـ
(ملفوظ6)لیڈی کی بجائے لفظ اھل خانہ مناسب ہے
فرمایا کہ ایک ریئس کی بی بی کا خط آیا اس میں اپنے پتہ کے ساتھ لکھا تھا کہ
لیڈی فلاں میں نے لکھا کہ اگر تم بجائے لفظ کے اہل خانہ لکھتیںـ یہ اچھا تھا پھر
ایک مہینہ کے بعد خط آیا اس پر اہل اخانہ فلاں لکھا تھا تو یہ بڑے شریف خاندان کی
عورتوں کی حالت ہے ان میں بھی جدید اثرآگیا ایسا ہی آج ایک خط آیا ہے اس میں اپنے
نام کے ساتھ مسڑ لکھا ہے کیا آفت ہے شریفوں میں بھی یہ بلا گھس گئی ہے نئے الفاظ کو
آج کل پسند کیا جاتا ہے کیا اردو میں دلالت کے لئے الفاظ رہے ـ نہیں فنا ہوگیے

You must be logged in to post a comment.