ایک آنے والے صاحب نے ایک دستی خط حضرت والا کی خدمت میں دیر سے پیش کیا اورعرض کیا کہ یہ فلاں صاحب کا خط ہے بوجہ بھول جانے کے آتے پیش نہ کرسکا فرمایا کہ آپ کود ہیں انکا ر کردینا تھا یہ ہی وجہ ہے کہ اپنے دوستوں کو کہا کرتا ہوں کہ اصول کے پابند بنواس میں بڑی راحت چھوٹی سے چھوٹی بات میں سلیقہ اور انتظام کی ضرورت ہے اصل میں ان باتوں کا سبب بے فکری ہے بھول کم ہے بے فکری زیادہ ہے اس رنگ کو دیکھ کر خیرخواہی سے مشورہ دیتا ہوں کہ دستی خط لینا ہی نہیں چاہے صاف کہہ دینا چاہیے کیا اطمینان کیا بھروسہ کہ پہنچایا نہیں خط ہمشہ ڈاک ہی میں بیجھنا چاہے ۔ یاد رکھنے کی بات ہے کیونکہ بیداری بہت کم طبیعتوں میں ہے جیسے سوتے ہیں یہ حال ہے ۔ پھر اس حالت میں کیوں ذمہ داری لے ۔
(ملفوظ 456) بذم القیل وقال :
ملقب بذم القیل والقال : ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ چارچیزیں ہیں شریعت طریقت حقیقت ، معرفت ، اگر کوئی ان کا منکرہ ہواس کے متعلق کیا حکم ہے فرمایا کہ تحریر کے ذریعہ سے سب کو الگ الگ پوچھنا چاہئے اسی لئے کہ اس خلط کی صورت میں حکم دینے میں کے ذریعہ سے سب کو الگ الگ پوچھنا چاہئے اسی لئے کہ اس خلط کی صورت میں حکم دینے میں اندیشہ ہے کہ محاطب کو غلط فہمی ہوجائے ایک کا حکم دوسرے پرلگالیا جاوے اسی طرح زبانی تقریر میں یہ احتمال زیادہ تھے اور ایک بات ضروری یہ ہے کہ جو شخص منکر ہو اس کو خود سوال کرنا چاہئے یہ نہیں کہ عمر زید کو فرض کرکے سوال کیا جائے اور چونکہ ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا انکار کفر نہیں اوربعض کا انکار کفر ہے اسی لئے مخلوط حالت میں فتویٰ دنیا خلاف احتیاط ہے اس کی صورت یہی ہے کہ جو منکر ہے وہ خود سوال کرے اوراس کی یہ صورت ہے کہ اول اس مسئول عنہ کی تعیین لکھے اوراس کے ساتھ سائل اس کا جو مفہوم خود سمجھا ہے اس کی تفسیر کرے اس کے بعد اپنا عقیدہ اس کے خلاف ساتھ ظاہر کرے اور سب کے بعد اپنے دسخط کرے تب فتوٰی سہولت سے ہوسکتا ہے اور جب تک سوال منقح نہ ہو فتوٰی ہوسکتا ، اس قسم کا فتویٰ بلا تحقیق دنیا ایسا ہے جیسے کسی کے قتل کا حکم کرنا یہاں جان میں تصرف ہے وہاں ایمان میں تصرف ہے ۔
پھر فرمایا کہ یہ سب اصطلاحات ہیں سہولت تعبیر کے لئے استعمال کی جاتی ہیں حقیقت سب کی بایں معنی متحد ہے کہ ان میں تنافی نہیں ایک ہی ہیں ۔ یہی غلطی ہے کہ ان کو الگ الگ بمعنی تنافی سمجھ لیا گیا جیسے ایک شخص ہے اس کو مولوی بھی کہتے ہیں قاری بھی کہتے ہیں حافظ بھی کہتے ہیں حاجی بھی کہتے ہیں تو یہ چیزیں صفات متبائنہ تھوڑا ہی ہیں ایک ہی شخص میں سب جمع ہیں اور باہم نسبت عموم وخصوص کی ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ مقصود اعظم تو شریعت ہی ہے فرمایا کہ خود ایک ہی چیز ہے یعنی شریعت ۔ اس کے مقابل کوئی چیز نہیں جس کی وجہ سے اعظم کہا جاوے جس کا حاصل عمل کا خالص کرنا بے شیخ اس کی تدابیر کی تعلیم کرتا ہے ان تدابیر کا نام طریقت ہے پھر اس کی برکت سے جو علوم منکشف ہوتے ہیں وہ حقیقت ہیں اوران ہی کے حقائق میں بعض کے انکشاف کا نام معرفت ہے باقی اور جوکچھ ہے مراقبہ مکاشفہ ذکر وشغل سب اسی مقصود کے معین اورمتمم ہیں اور اصل وہی ایک چیز ہے اور یہ سب کرنے کے کام ہیں مگر آج کل بجائے کچھ کرنے کے بڑا شغل دوسری کی عیب جوئی یا فضول تحقیقات رہ گئی ہیں لیکن دوسرے پرتو فتوٰی جب لگاوے جب اپنے سے فراغت حاصل کرلی ہو ایک شخص مدقوق ( مرض دق میں مبتلا ) ہے اور ایک پڑوس میں مزکوم ( جس کوزکام ہورہا ) ہے اب یہ دق والا زکام کا نسخہ تلاش کرتا پھرتا ہے اپنی فکر نہیں خبر نہیں لیتا ۔ مولانا نعیم صاحب سے کسی شخص نے سوال کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اور حضرت معاویہر رضی اللہ عنہ میں جو جنگ ہوئی کون حق پرتھا مولانا نے دریافت کیا کہ یہ کس نے سوال کیا ہے عرض کیا کہ فلاں حافظ صاحب نے دریافت فرمایا کہ وہ کام کرتے ہیں عرض کیا جوتے بیچتے ہیں فرمایا اور تم کیا کام کرتے ہو عرض کیا کہ میں کپڑے رنگتا ہوں فرمایا جاؤ تم کپڑے رنگو اور ان سے کہو جوتے بیچا کریں علی جانیں اور معاویہ جانیں ان کا معاملہ تمہارے پاس فیصلہ کے لئے نہ آئے گا بعض لوگ خطوط میں مجھ سے استفسار کرتے ہیں کہ فلاں شخص ایسا ہے اس کے متعلق کیا حکم ہے لکھ دیتا ہوں کہ خود واقعہ کے دستخط کراکر بھیجھیں حضرت یقینا سوال میں افتراء اور کذب ہوتا ہے یا نیت فاسد ہوتی ہے فتوے کو آڑ بنا کر ایک مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں اور اس کی فضیحت اور رسوائی کے درپے ہوتے ہیں بڑی بڑی سخت بات ہے جونہایت احتیاط کے قابل ہے جیسے بزرگوں نے اس باب میں سخت احتیاط سے کام لیا ہے ۔
ایک حکایت اس کے متعلق یا د آئی میں نے طالب علمی کے زمانہ میں کسی کتاب میں دیکھا کہ ایک پیر نے مرید سے پوچھا کہ تم خدا کو جانتے ہو مرید نے کہا کہ میں خدا کو کیا جانوں میں تو تم کو جانوں مجھ کو اس پربڑا غصہ آیا کہ بڑا ہی جاہل اور ایمان سے دور تھا ۔ میں نے یہ قصہ مولانا محمد یعقوب صاحب سے عرض کیا کہ حضرت ایسے ایسے بھی جاہل ہیں مولانا نے فرمایا کہ کیا تم خدا کو جانتے ہو ، تب میری آنکھیں کھلیں فرمایا کہ میاں کس اللہ والے ہی کو پہچان لے یہ ہی بڑی نعمت ہے اس میں مولانا نے تاویل سے کام لیا اور قائل کو بچالیا ۔ حضرت مولانا شیخ محمد صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ بعض لوگ والاالضالین فرمایا بس جو قرآن میں لکھا ہے وہی پڑھا کرو دیکھے کیسی سہولت سے جھگڑے کو قطع کردیا اس میں تعلیم تھی کہ جھگڑوں میں مت پڑو ۔
ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ یزید پر لعنت کرنا کیسا ہے میں نے کہا کہ اس شخص کو جائز ہے جس کو یہ خبردار اور یقین ہوکہ میں یزید سے اچھی حالت میں مروں گا اگرکہیں اس سے خراب حالت میں قبر میں رہ گئے تو وہ کہے گا کہ مجھ کو تو ایسا ایسا کہتے تجھے تھے اب تم دیکھو کس حالت میں ہوکہنے لگے تو یہ کب معلوم ہوگا میں نے کہا کہ مرنے کہا مرنے کے بعد کہنے لگے تو قبر میں لعنت کیا کریں میں نے کہا کہ ہاں کوئی کام تو وہاں ہوگا نہیں بیٹھے ہوئے لعنت اللہ علی الیزید پڑھا کرنا یہاں تو کام کی باتوں میں لگو ۔ خاتمہ کے خطرہ پرایک بزرگی کی ایک حکایت یا د آئی کہ ان سے کسی کنجڑن نے سوال کیا کہ ملاجی تمہاری داڑھی اچھی ہے یا میرے بکرے کی دم کہا کہ کبھی جواب دیے دیں گے ۔ ساری عمر گذر گئی مگر اس کنجڑن کوکوئی جواب نہیں دیا جب مرنے لگے تو وصیت کی کہ میرا جنازہ اس کنجڑن کے دوکان کے سامنے سے نکالنا جب جنازہ وہاں پہنچا اس نے کہا کہ مرگئے میرے سوال کا جواب نہ دیا بس منہ کھول دیا اور منہ پرہاتھ پھیر کر کہا کہ الحمداللہ آج میری داڑھی اچھی ہے تیرے بکرے کی دم سے اسی لئے کہ ایمان پر خاتمہ ہوگیا ۔ اب یہ حکایت صحیح ہو یا غلط مگر مثال اچھی ہے اور مثال دلیل نہیں ہوتی محض تو ضیح کے لئے ہوتی ہے غرض خاتمہ کے بعد پتہ لگتا ہے باقی اس سے پہلے تو مجدد صاحب کے ارشاد عمل ہونا چاہئے انہوں نے فرمایا ہے کہ مومن مومن نہیں ہوتا جب تک اپنے کو کافر فرنگ سے بدتر نہ سمجھے مطلب یہ کہ کیا خبرکیا ہوجائے اور کیا خبرکیا ہوجائے اور کیا معاملہ پیش آئے کس کو خبر ہے خلاصہ یہ ہے کہ فضول سوالوں میں پڑنا وقت کا ضائع کرنا ہے ہمارے بزرگ اس قسم کی گفتگو اور مباحثوں مناظروں کو پسند نہ فرماتے تھے خود کام لگے رہتے تھے اور دوسروں کو لگائے رکھتے تھے ۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا قاسم صاحب دہلی تشریف رکھتے تھے اور ان کے ساتھ مولانا احمد حسن صاحب امروہی اورامیرشاہ خان صاحب بھی تھے شب کو جب سونے کے لئے لیٹے تو ان دونوں نے اپنی چارپائی ذرا الگ کو بچھالی اور باتیں کرنے لگے امیر شاہ خان صاحب نے مولوی صاحب سے کہا کہ صبح کی نماز ایک برج والی مسجد میں چل کرپڑھیں گے سنا ہے وہاں کے امام قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں مولوی صاحب نے کہا ک ارے پٹھان جاہل (آپس میں بے تکلفی بہت تھی ) ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ تو ہمارے مولانا کی تکفیر کرتا ہے مولانا نے سن لیا اورزرو سے فرمایا احمد حسن میں تو سمجھا تھا تو لکھ پڑھ گیا ہے مگر جاہل ہی رہا پھر دوسروں کو جاہل کہتا ہے ارے کیا قاسم کی تکفیر سے وہ قابل امامت نہیں رہا میں تو اس سے اس کی دینداری کا معتقد ہوگیا اس نے میری کوئی ایسی ہی بات سنی ہوگی ۔ جس کی وجہ سے میری تکفیر واجب تھی گوروایت غلط پہنچی ہوتو یہ راوی پرالزام ہے تو اس کا سبب دین ہی ہے اب میں خود اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا ۔ غرضکہ صبح کی نماز مولانا نے اس کے پیچھے پڑھی یہ ہے ہمارے بزرگوں کا مذاق جن کی کوئی نظیر پیش نہیں کرسکتا ان حضرات کی عجیب وغریب شان تھی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب بجز کفار کے اور کسی سے مناظرہ نہ کرتے تھے بہت ہی مجبوری کے درجہ میں ایک مرتبہ بعض غیرمقلدین کا اور نعض شیعوں کا جواب لکھا ۔ تحذیرالناس پر جب مولانا پرفتوے لگے تو جواب نہیں دیا یہ فرمایا کہ کافر سے مسلمان ہونے کا طریقہ بڑوں سے یہ سنا ہے کہ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہوجاتا ہے تو میں کلمہ پڑھتا ہوں لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ : ایک مرتبہ میرے لکھے ہوئے اور حضرات مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے تصحیح کردہ ایک فتویٰ پرسائل کی طرف سے کچھ اعتراضات آئے تھے ۔ میں نے جواب لکھنے کی اجازت لینے کے لئے دکھلایا تو فرمایا کہ جواب مت لکھنا صرف یہ لکھ دو کہ ضروری جواب دیا جاچکا ہے باقی ہم مرغان جنگی نہیں کہ جنگ وجدال کا سلسلہ دراز کریں اگر ہمارے جواب سے اطمینان نہ ہو ۔ فوق کل ذی علم علیم ۔ دوسری جگہ سے اطمینان کرلو ہم اس جنگ وجدل سے معاف رکھواب دوبات حضرت کی یاد آتی ہے کہ ردوکد میں وہی پڑھ سکتا ہے جس کوکوئی کام نہ ہو اور جس کو کام ہوگا اس کی تویہ حالت ہوگی جیسے ایک حکایت ہے کہ ایک شخص کی داڑھی میں کچھ سفید بال آگئے حجام سے کہا کہ سفید بال چن چن کر نکال دینا ۔ نائی نے استرے سے تمام داڑھی صاف کرکے سامنے ڈال دی کہ لومیاں تم بیٹھے چنے جاؤ مجھے اور بھی کام ہے مجھ کو چننے کی فرصت نہیں تو کام کا آدمی توبکھیڑوں سے ضرور گھبراتا ہے یہ تو بے کارلوگوں کے مشغلے ہیں اسے برا کہہ لیا اس سے بھلا کہہ لیا اس پرفتویٰ دیا اس پرفتوٰی دیدیا ۔
ایک غیرمقلد یہاں آئے تھے ذکروشغل کرتے تھے بے چاروں کو مجھ سے محبت تھی ایک روز لوگوں سے کہنے لگے کہ یہاں پرسنت کے خلاف صرف ایک بات ہے وہ یہ کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ چشتی ، قادری ، نقشبندی ،سہروردی یہ تقسیم کسی ہے ، میں نے سن کر کہا کہ آصطلاحات میں سہولت تعبیر کے لیے نام کھ لئے ہیں یہ کوئی طریق کا جزو نہیں نہ مقصود طریق ہے اس کا انکار آپ جائز ہے۔ غرض کا رنگ ہی دوسرا ہوتا ہے مگر لوگوں کی عجییب حالت ہورہی ہے کہ اپنی فکر نہیں دوسروں کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ۔ حصوص عیب جوئی اور عیب گوئی کہ اس میں عام ابتلاء ہورہا ہے اپنے بدن میں تو کیڑے پڑرہے ہیں ان کی خبر نہیں اور دوسروں کے کپڑے پرجومکھیاں بیٹھی ہیں ان پرنظر ہے ارے اپنے کو تو دیکھ کہ کس حال ہیں ہے ۔
ایک مثال عیب چین کی ایک شخص نے عجیب بیان کی کہ باغ میں کوئی جاتا ہے تفریح سیرکے لئے ، کوئی پھول سونگھنے کے لئے اور کوئی پھل کھانے کے لئے مگر سور جب جائے گا نجاست ہی کو تلاش کرے گا کہ پاخانہ بھی کہیں ہے یا نہیں ایسے ہی اس عیب چیں کی مثال ہے کہ کسی میں کتنی ہی خوبیاں کیوں نہ ہوں مگر اس کی نظر عیوب ہی کی متلاشی رہتی ہے ۔
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو ضروری نہیں ہے کہ کسی خاص طریق تربیت کو مثلا میرے ہی طرز کو سب اچھا ہی سمجھیں اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی کا لڑکا حسین ہے تو کیا ضرور ہے کہ ساری دنیا اس کو حسین ہی سمجھے بلکہ یہ اچھا ہے کہ دوسرے اس کو بدشکل اور غیر حسین سمجھیں تاکہ لڑکا بچا تو رہے گا اور پاک صاف رہے گا ۔ اسی طرح یہ کیا طرح یہ کیا ضرور ہے کہ جو چیز ایک کی نظر میں اچھی نہیں معلوم ہوتی اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس طریق میں کام کرنے سے حقیقت کا پتہ چلتا ہے کام ہی کرنے سے راستہ سمجھ میں آسکتا ہے اور لوگ کام کرتے نہیں اسی لئے اس سے اجنبیت ہے باقی محض بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ کہیں اور مضرت نہ ہو اور حقیقت سے دور جا پڑے جیسے ٹیڑھی کھیر کی حکایت ہے ۔
ایک حافظ جی مادرزادنا بینا تھے ایک لڑکے نے ان کی دعوت کی حافظ جی نے سوال کیا کہ کیا کھلاؤ گے کہا کہ کھیر اب غلطی میں ابتلاء شروع ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے پوچھا کہ بگلا کیسے ہوتا ہے اب لڑکا کس طرح سمجائے ہاتھ موڑ کر سامنے بیٹھ کرکہا ایسا ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے جوٹٹول کردیکھا تو کہاں کہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے نیچے کیسے اترے گی مشبہ نہ تو تھا بگلا اورلڑکا تھا پگلا کا طباق بھر کرلا کرسامنے رکھ دیتا کہ لوکھا کردیکھ لو کھیر کیسی ہوتی ہے تواسی طرح بیان کرنے سے اس طریق کی حقیقت معلوم ہو نہیں سکتی بلکہ اور بعد ہوجانے کا اندیشہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ قیل وقال وبحث وجدال اور فضول جواب وسوال چھوڑو اور کام میں لگو ولنعم ماقیل
کارکن کاربگذر از گفتا ر کاندریں راہ کا ر باید کار
انتھت المقالۃ الملقبۃ بذم القیل والقال ۔
(ملفوظ 455) طریقت کی کتب داخل درس ہونا چاہئیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری رائے ہے کہ طریق کی ضروری کتابوں کودرس میں داخل کردیا جائے کچھ تو اجنبیت جاتی رہے گو پوری تکمیل نہ سہی اسی لئے کہ شیخ کی پھر بھی ضرورت رہے گی اس طریق میں شیخ سے کسی حال میں استغناء نہیں ہوسکتا ۔ مگر درس سے کچھ تو مناسبت ہوجائے گی ۔
29 شوال المکرم 1350ھ بوقت 8 بجے درباغ حضرت والا یوم سہ شنبہ
(ملفوظ 454)بعض محبان دنیا کا طریق سے متعلق خیال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض محبان دنیا اس طریق کو اس لئے مضر سمجھتے ہیں کہ آدمی نکما ہوجاتا ہے مگر یہ بھی ہے کہ نکما ہو کس کا ہوجاتا ہے وہ ایسا نکما ہوجاتا ہے جس کی نسبت فرماتے ہیں :
تابدانی ہر کر ایزداں بخواند از ہمہ کار جہاں بیکار ماند
ما اگر قلاش وگر دیوانہ ایم مست آں ساقی وآں پیمانہ ایم
( تاکہ تم جان لوکہ جس کو خدا تعالٰی نے بلالیا ۔ بعنی اپنی طرف جذب کرلیا وہ سارے جہاں کے کام سے بے کار ہوگیا ۔ لہذا ہم اگر مفلس اور دیوانے (بے عقل ) ہیں تو کچھ غم نہیں کیونکہ اس ساقی کی شراب کے اور اس کے پیمانہ کے مست ہیں ۔ تو اس دولت کے ہوتے ہوئے دولت دنیا کی اگر نہیں ہے تو کیا غم ہے 12)
باقی یہ طریق ضروری اس قدر ہے کہ بدوں اس کے اپنی ہی حقیقت معلوم نہیں ہوتی میں نے ایک شخص کے اندر مرض کبر محسوس کرکے اس کو بتلایا اس نے اتنی مدت تک اس کو پتہ نہ لگا ۔ اسی طرح ایک شخص نے مجھ کولکھا کہ میں کس چیزکا علاج کروں مجھ میں کوئی مرض ہی نہیں دیکھئے مریض ہوکر اپنی صحت پراطمینان تھا ۔
(ملفوظ 453) سحری میں سیری سے روزہ کی حکمت فوت نہیں ہوتی
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ رمضان کو اگر رات کو خوب پیٹ بھرکر کھالیا تو روزہ کی حکمت ہی اس کو حاصل نہیں ہے یعنی قوۃ بہیمیہ کی شکستگی کیونکہ ضعف بدنی تو ہوا ہی نہیں لیکن تجربہ ہے کہ شب کو خوب کھالینے کے بعد بھی روزہ سے ضعف ہوتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ خلاف عادت کھانے سے تجربہ ہے کہ پوری قوت نہیں ہوتی اور معمولی پرکھانے کی خواہش ہوتی ہے اور ملتا ہے نہیں اسی لئے بدن میں ضعف ہوتا ہے اور صوم دہرے اسی لئے ممانعت کی گئی ہے کہ ایک ہی وقت کھانے کی عادت نہ ہو جاوے حالانکہ تکثیرعبادت ہے اور افضل الصوم اسکو فرمایا ہے کہ ایک دن رکھے ۔ ایک دن نہ رکھے اس میں عادت نہ ہونے کی وجہ سے روزہ میں مجاہدہ ہوگا جو حکمت ہے صوم کی ۔
(ملفوظ 452)نیک اعمال کا اہتمام ضرور کرنا چاہئے :
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو ضرور سمجھنا چاہئے کہ ہمارے اعمال ناقص ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کرے کہ نہ ہونے سے ہونا اچھا ہے جیسے مال گذاری ادا کرنا ہے اور کل روپیہ پاس نہ ہوتو جوہو وہی ادا کرو ۔ بازار میں جارہا ہے اور ہاتھ میں کچھ نہیں اس سے یہ زیادہ اچھا ہے کہ کھوٹا روپیہ سہی وہ آٹھ ہی آنہ میں چلے گا تو سہی سیربھرمٹھائی نہ آوے گی آدھ ہی سہی ۔
(ملفوظ 450) حضرت مولانا شیخ محمد صاحب تھانوی کا ارشاد
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کبر اور خودرائی کا مرض آجکل تقریبا عام ہوگیا ہے خصوص لکھے پڑھوں میں ۔ ایک شخص نے جو قاری مشہور تھے یہ استفتاء کیا تھا کہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب کے پیچھے میرے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں وہ اپنے دل میں سمجھتے تھے کہ سب سے زیادہ فاضل اور عامل میں ہوں حالانکہ یہ لوگ بزرگوں کے صحبت یا فتہ اور حضرت مولانا کے مرید تھے میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگر سلسلہ میں داخل ہوکر انکساراور فنا کی شان نہ پیدا ہوئی جو اس طریق کی پہلی سیڑھی ہے تو وہ شخص بالکل محروم ہے اس قرات پریاد آیا کہ ایک بار حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ اتفاقا رات کو کہیں سے آرہے تھے راستہ میں حضرت حبیب عجمی کا گھر آگیا وہ تہجد میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے خیال ہوا کہ میں بھی ان کا اقتداء کرلوں گا مگر دیکھا کہ بعض حروف ان کے نزدیک صحیح نہ تھے اسی لئے ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھی حضرت حق جل شانہ کو خواب میں دیکھا عرض کیا کہ کوئی عمل ایسا ہے کہ وہ سب میں زیادتی آپ کو محبوب ہوحکم ہوالصلوۃ خلف الحبیب العجمی یعنی ان کے پیچھے نماز پڑھنا کہ وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ اور یہ ضروری نہیں کہ وہ غلطی مفسد صلوۃ تھی مفوت تحسین ہوگی ۔
( ملفوظ 449 )حق العمل و لو مع انخلل ( ملقب بہ حق العمل و لو مع الخلل )
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے ایک گھڑی خریدی ہے اس میں الارم ہے تہجد کے وقت اس سے آنکھ کھلتی ہے اس کا افسوس ہے کہ اب تک کوئی چیز پیدا نہیں ہوئی خارجی چیزوں کی حاجت ہے ۔ میں نے جواب لکھا کہ افسوس کی کیا بات ہے خارجی چیزوں سے کہاں تک بچو گے ضروری چیزیں زیادہ تر خارجی ہیں چنانچہ روٹی بھی خارجی ہے پانی خارجی ہے ان سے کہاں تک بچو گے ۔ یہ سب اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں انہوں نے گھڑی ایجاد کرا دی ۔ تم کو اتنی وسعت دی کہ اس کو خرید سکے اس میں الارم لگوا دیا سو اس سے استغناء کی فکر کیوں ہے تمہیں اللہ تعالی کے احسانات کا ان کی رحمت کا ان کی عطاء کا شکر ادا کرنا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے نہ کہ افسوس !
معلوم نہیں لوگ بننا کیا چاہتے ہیں بندہ بن کر رہنا تو لوگوں کو دو بھر ہو گیا کمال کے معنی گھڑ کر اس معنی کے اعتبار سے اپنے کو کامل بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر حضرات انبیاء علیہم السلام کو دیکھئے جو ہر طرح کامل ہیں مگر ان سے پوچھئے کہ وہ اپنی عبادتوں کو کیسا سمجھتے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں لن یدخل الجنۃ احد بعملہ کہ جنت میں اپنے عمل کی وجہ سے کوئی داخل نہ ہو گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ولا انت یا رسول اللہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا و لا انا الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ ۔ اگر آپ اپنے عمل کو کامل سمجھتے تو جنت میں جانے کو عمل کا ثمرہ کیوں نہ فرماتے حضرت وہاں تو فضل ہی پر مدار ہے شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔
بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد
ورنہ سزا وار خداوندیش کس نتو اند کہ بجا آورد
جب انبیاء علیہم السلام کمال کا دعوی نہیں کرتے تو اور کس کا منہ ہے کہ وہ کامل ہونے کا یا بننے کا دعوی کرے بس عبدیت یہی ہے کہ کام میں لگے رہو اور آگے کو چلتے رہو اگر کوئی شخص چلنے کے وقت ہر قدم پر یہ دیکھے کہ رفتار سریع ہے یا بطی ( سست ) تو منزل ختم ہو چکی اور منزل مقصود پر پہنچ لیا ارے تیز ہے یا سست ۔ چلا چل منزل سے قریب ہی بڑھے گا اور ایک روز پہنچ رہے گا ۔
مجنون کی حکایت ہے ایک مرتبہ اپنی لیلی کی ملاقات کے لئے اونٹنی پر سوار ہو کر چلا جس کے ساتھ بچہ بھی تھا جو اونٹنی کے پیچھے آ رہا تھا جب تک مجنوں کے ہوش حواس درست رہتے اور مہار ہاتھ میں رہتی اونٹنی چلتی رہتی اور جب اس پر محبت کا غلبہ ہوتا تو بے ہوش ہو جاتا ۔ مہار ہاتھ سے چھوٹی جاتی اونٹنی محسوس کر لیتی کہ اب سوار غافل ہے وہ پیچھے لوٹ کر بچے کے پاس جا پہنچتی پھر مجنوں کو جب ہوش آتا دوبارہ پھر مہار سنبھال کر بیٹھتا اور لے کر چلتا پھر اسی مدہوشی کی کیفیت کا غلبہ ہوتا اونٹنی پھر اسی طرح پیچھے لوٹتی ہوش آیا تو دیکھا کہ ابھی وہیں ہوں جہاں سے چلا تھا تب مجنوں نے یہ شعر پڑھا :
ھوی ناقتی خلفی و قدامی الھوی فانی و ایاھا لمختلفان
یعنی میرا محبوب تو آگے ہے اور اس اونٹنی کا محبوب پیچھے ۔ میرا اس کا نباہ نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی اوپر سے کود پڑا چوٹ بھی لگی اسی لئے کے بے تکے پن سے کودا چلنے کی بھی قوت نہ رہی تو زمین پر ہی لیٹے لیٹے لڑھکنا شروع کر دیا تو مجنون نے تو لیلی کے عشق میں یہاں تک گوارا کیا اور تم
خدا کے عشق کا اور محبت کا دعوی کرتے ہو پھر انتظار کس بات کا ہے جس طرح بھی ہو اور جیسے بھی تیزی سے سستی سے چل پڑو کیا خدا کی محبت لیلی کی محبت سے بھی کم ہے خوب فرماتے ہیں :
عشق مولی کے کم از لیلے بود گوئے گشتن بہر او اولی بود
اور تم تو رجسٹری شدہ محب ہو فرماتے ہیں و الذین امنوا اشد حبا للہ ۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو سب سے زیادہ اللہ کی محبت ہے اس لئے محب ہونے سے انکار بھی نہیں کر سکتے جب تمہاری محبت اور عشق نص سے ثابت ہو گیا تو عشق تو ایسی چیز ہے کہ سوائے محبوب کے کسی کو نہیں چھوڑتا پھر موانع پر نظر کیسی خوب فرمایا :
عشق آں شعلہ است کو چوں برفروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغ لادر قتل غیر حق بر اند مرحبا اے عشق شرکت سوز تفت
( عشق وہ شعلہ ہے کہ جب یہ بھڑکا تو محبوب کے سوا اور سب کو جلا دیتا ہے ۔غیر حق کا فنا کرنے کے لئے جب لا کی تلوار کھینچی تو پھر دیکھو آگے کیا رہ گیا ۔ ( ظاہر ہے کہ ) الا اللہ رہ گیا ۔ مبارک ہے وہ عشق جو غیر حق کی شرکت کو بالکل فنا کر دینے والا ہے )
حضرت عشق کے تو کاروبار ہی نرالے ہیں یہ چیزیں ہی ایسی ہے کہ بجز محبوب کے قاعدوں کے کوئی قاعدہ قانون ہی باقی نہیں رہتا ۔ بلکہ کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی سوائے محبوب کے یہ خدا سے کیسی محبت اور کیسا عشق ہے کہ جس میں ایسی باتوں پر نظر ہے جو محبوب کی راہ میں سد راہ ہیں محب کو کسی طرح بھی چین نہ آنا چاہئے اگر چین ہے تو اپنے دعوی میں جھوٹا ہے عاشق نہیں ۔ خاتم مثنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حکایت لکھی کہ ایک عورت چلی جا رہی تھی اس نے دیکھا کہ میرے پیچھے ایک مرد آ رہا ہے اس عورت نے کہا کہ تو میرے پیچھے کیسے آ رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں تم پر عاشق ہو گیا ہوں اس عورت نے کہا کہ میری بہن مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے میرے پیچھے آ رہی ہے مجھ جیسی بد صورت پر کیا عاشق ہوتے ہو وہ زیادہ حسین ہے اس پر عاشق ہو یہ سن کر اس شخص نے منہ موڑ کر دیکھا اس عورت نے اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا اور کہا
گفت اے ابلہ اگر عاشقی دربیان دعوی خود صادقی پس چرابر غیر افگندی نظر ایں بود دعوی عشق اے بے ہنر
( اس عورت نے کہا کہ ارے بیوقوف اگر تو میرا عاشق صادق ہوتا تو میرے سوا دوسری پر کیوں نظر ڈالتا ۔ کیا عشق کا دعوی ایسا ہی ہوتا ہے )
اسی طرح وہ شخص کذاب ہے جو خدا کی محبت اور عشق کا دعوی کرے اور اس کے احکام اور اس کے نام لئے بغیر اس کو چین ہو اسی کو فرماتے ہیں :
اے کہ صبرت نیست از فرزند و زن صبر چوں داری زرب ذوالمنن
اے کہ صبرت نیست از دنیائے دوں صبر چوں داری زنعم الماہدوں
( تجھ کو بیوی بچوں بغیر اور کمینی دنیا کے بغیر تو صبر نہیں آتا ۔ تعجب ہے کہ حق تعالی کے بغیر کس طرح صبر آ جاتا ہے )
ارے چلو تو چلنے میں بے ڈھنگاپن ہی سہی عشق میں عرفی حدود و شرائط بھی کہاں وہ عاشق کیسا جس کو یہ خیال ہو کہ ہائے فلاں حال نہیں ہوا فلاں کمال نہیں ہوا فرماتے ہیں :
دوست دارد دوست ایں آشفتگی کوشش بے ہودہ بہ از خفتگی
( محبوب کو یہ پریشان حالی محبوب ہے ۔ تو ہماری ناکام کوشش بے کار رہے تو بہتر ہی ہے 12 )
اگر آدمی اسی میں رہے کہ میں کامل بنوں جنید بغدادی بنوں تو میں بتلائے دیتا ہوں کہ کچھ بھی نہیں بنے گا بس کام میں لگو سعی اور کوشش کرو وہ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں فرماتے اور بدوں کام میں لگے یہ تمنائیں پکانا یہ شیطان کی راہ زنی ہے ہمارا مذہب تو یہ ہے جیسے ایک شخص کا مقولہ ہے کہ وہ دربار ایسا ہے کہ کئے جاؤ اور لئے جاؤ کیسی کام کی بات ہے ایسے ہی قافیہ وار اور مفید بات ایک مرتبہ ریل میں ایک گاؤں کا شخص کہہ رہا تھا کہ نیک رہو اور ایک رہو کتنے عالی مضمون کو دو مختصر جملوں میں بیان کر دیا ۔ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ غرض یہ شیطان کی راہ زنی ہے کہ کھاؤں گا گھی سے ورنہ جاؤں گا جی سی ۔ ایک شخص نے یہ سن کر لاصلوۃ الا بحضور القلب نماز چھوڑ دی تھی ایک صاحب یہاں پر آئے تھے کسی حاجت کے لئے مجھ سے دعا کو کہا کہ دعا کر دیجئے میں نے کہا تم بھی کرو اور میں بھی کرتا ہوں کہتے ہیں کہ جی ہماری کیا دعاء ہماری زبان ایسی کہاں ۔ میں نے کہا کہ اسی زبان سے کلمہ شریف پڑھتے ہو جب ایسی زبان نہیں تو اس سے کلمہ شریف بھی نہ پڑھو یہ شیطان نے راہ مارر رکھی ہے مثلا اسی شخص کو برکات دعا سے محروم کررکھا ہے ۔
صاحبو ! جتنا عمل بھی ہورہا ہے وہ ناقص ہی سہی کیا ہم اس کے مستحق تھے ظاہر ہے ہمارا کیا استحقاق ہوتا کیا استحقاق استحقاق لئے پھرتے ہیں یہ سب ان کا فضل اور عطاء ہے اور استحقاق تو کیا ہوتا ہم نے تو کچھ مانگا بھی نہ تھا خود فضل فرمادیا اسی کو کہتے ہیں :
ما بنودیم و تقاضا ماں نبود ٭ لطف تو ناگفتہ نامی شنود
( ہم موجود نہیں تھے اور نہ ہمارے وجود کا کوئی تقاضا تھا مگر اس وقت بھی حق تعالٰی کا لطف ہماری التجاؤں کو ہماری دوخواست کے سن رہا تھا )
بس جتنا دیا غنیمت ہے ہمارا حق ہی کیا تھا ارے کمال نہیں تو ناقص نماز کی تو توفیق دیدی دوسروں کو تو ناقص کی بھی توفیق نہیں ان سے تو پھراچھے حال میں رکھا اب رہ گیا نقص سواس کا علاج اللھم اغفرلی ہے الحمد اللہ کامل تعلیم پیش کردی گئی اور یہ طفیل اس کا ہے کہ ہم سب خادمان دین کے خادم ہیں چنانچہ اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ ہماری نظر فقہ اور تصوف دونوں پرہے دونوں کو ملاکر عمل اور تعلیم کرتے ہیں اسی لیے کس جگہ پریشانی نہیں دشواری نہیں ۔ جو لوگ کمال کی فکر میں پڑجاتے ہیں ان کو بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر اس ناقص سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اس کامل یا ناقص پرایک واقعہ یاد آیا ۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس کہیں سے کھانا آیا آپ نے اپنے ایک خلیفہ کے پاس بھیج دیا انہوں نے عرض کیا حضرت تحقیق بھی فرمالیا ہے حرام ومشتبہ تونہیں فرمایا کہ جا بڑا نکلا ہے حلال وحرام والا ۔ بھوکا مرجائے گا کھالیا کر جوخدا دیا کرے ۔ مطلب یہ کہ بلا وجہ اتنی تفشیش اور تحقیق کے پیچھے نہ پڑے ۔ ایک شخص تھے یہاں پر ان کی ایک شخص نے دعوت کی جب کھانے بیٹھے تب تفشیش شروع کی کہ یہ چیز کہاں سے آئی یہ برتن کیسی کمائی کے ہیں ۔ وہ بے چارا پریشان بھلا پہلے ہی کیوں نہیں تحقیق فرمالی تھی کچھ نہیں یہ بھی ایک مرض ہے جو تکبر سے ناشی ہے ایسے ہی ایک مرتبہ ایک شخص نے میری دعوت کی مجھ کو شبہ تھا حرام کا ۔ میں نے تنہائی میں لطف کے ساتھ صاف کہہ دیا کہ اس شبہ کی وجہ سے مجھ کو عذر ہے اس شخص نے کہا کہ میں نے اس کا کافی انتظار کرلیا ہے مجھ کو اس کا خود خیال تھا ۔ بس قصہ ختم ہوا اور چیزاپنے موقع پراور حد پراچھی معلوم ہوتی ہے ۔ خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ جن دو چیزوں کا آپ کو اختیار دیا جاتا تھا تو سہل کو اختیار فرماتے تھے تو پھردوسرے کا کیا منہ ہے کہ اعمال میں کمال مزعوم کے درپے ہو
انتھت رسالۃ حق ولو مع الخلل ۔
( ملفوظ 448 )بخل مطلقا مذموم نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدوں تھوڑے سے بخل کے انتظام ہو ہی نہیں سکتا اور اس میں مجھ کو چاہے کوئی کچھ ہی کہے مگر حقیقت یہ ہی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں بخل مطلقا مذموم نہیں بلکہ کوئی ملکہ بھی برا نہیں مثلا بخل ہے طمع ہے حرص ہے حتی کہ شہوت تک بھی جب تک یہ سب اپنی حد پر ہیں مذموم نہیں فرماتے ہیں :
اے بسا امساک کز انفاق بہ مال حق راجز بامر حق مدہ
( بہت سے بخل سخاوت سے بہتر ہیں ۔ اللہ کے مال کو بغیر حکم الہی خرچ مت کر ۔ 12 )
اور آج کل جس کا نام سخاوت رکھا ہے وہ کھلا اسراف ہے اور یہ لوگ سخی نہیں مسرف ہیں اور اسراف ملکہ نہیں کہ اس میں دو درجے ہوں فعل ہے یعنی معصیت میں خرچ کرنا اس کی محمودیت کا کون دعوی کر سکتا ہے اسی لئے اسراف میں تقسیم نہیں کہ اس کی دو قسمیں ہوں کہ ایک محمود ہے اور ایک مذموم جیسے بخل کی تقسیم ہو سکتی ہے ایک محمود ایک مذموم بخل کے معنی ہیں قلب کی تنگی سو تنگی کی تقسیم ہو سکتی ہے مثلا کسی نے روپیہ جمع کیا اور خرچ اس لئے نہیں کیا کہ اس سے مقصود بیوی بچوں کی راحت ہے آسائش ہے فراغت ہے اس کے محمود ہونے کا دعوی غلط نہیں ہو سکتا ۔ مگر مسرف جب معصیت میں صرف کرے گا تو اس میں کیا مصلحت اور کون سا اچھا مقصود سمجھا جا سکتا ہے نفس نے مکروفریب سے مسرف کو یہ سمجھا رکھا ہے کہ یہ استغناء ہے یہ نفس بری بلا ہے اس کا کچھ اعتبار نہیں اسی کو فرماتے ہیں
نفس اژدہا ست او کے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
( نفس اژدھا ہے جو مرا نہیں ہے بے سروسامانی کی وجہ سے ٹھٹرا ہوا ہے ۔ )
ہر چیز میں دین کا رنگ ظاہر کر دیتا ہے بلکہ بخل کا جو درجہ برا ہے اسراف اس سے زیادہ برا ہے باقی محمود درجہ میں تو بڑے مصالح ہیں خصوص آج کل تو سخت ضرورت ہے کہ نفس کو بہلانے کے لئے انسان اپنے پاس کچھ ضرور رکھے اس میں بڑی مصلحتیں رہیں بہت ہی نازک وقت ہے ۔ مولوی غوث علی شاہ صاحب بڑے حکیم اور ظریف تھے ان کے سامنے کسی نے دوسرے کو دعا دی کہ ایمان کی سلامتی اور عافیت بخیر ہو ۔ مولوی صاحب نے پوچھا بھائی اس کی حقیقت بھی معلوم ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ آپ ہی فرمائیے اس پر فرمایا کہ ایمان کی سلامتی تو یہ ہے کہ پیٹ بھر کر روٹی مل جائے اور عاقبت بخیر یہ ہے کہ کھل کر پاخانہ ہو جایا کرے پس یہ ہی بڑی نعمت ہے ۔
( ملفوظ 447 )ہندوؤں اور مسلمانوں کا اتحاد کیسے ہو سکتا ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ متعصب ہندوؤں نے قریب قریب مسلمانوں کو عضو معطل کر رکھا ہے مسلمان چاہتے ہیں کہ اتحاد ہو یہ اتحاد ہے یہ تو تابع بننا ہے اتحاد اس وقت ہوتا ہے جب کہ دونوں قومیں مساوی ہوں خدا معلوم مسلمان ہندوؤں کے اس قدر گرویدہ کیوں ہوئے ہیں جن کی نظروں میں گذشتہ دور کے واقعات ہیں وہ کبھی اس قوم پر اعتماد نہیں کر سکتے مگر آج کل کے نوجوان اس قوم کی حقیقت سے بے خبر ہیں ان کی دوستی کا نتیجہ مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہوا اور ہو گا مگر ان لوگوں کو کتنا ہی کوئی سمجھائے سنتا کون ہے میں سچ عرض کرتا ہوں کہ مسلمان آج کل بالکل اس کے مصداق بنے ہوئے ہیں کہ فر من المطر و وقف تحت المیزاب ( بارش کی بوندوں سے بھاگا ۔ اور پرنالہ کے نیچے کھڑا ہو گیا ) مگر کسی طرح آنکھیں نہیں کھلتیں ۔ اس کا کیا کوئی علاج کر سکتا ہے ۔

You must be logged in to post a comment.